تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 217
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۷ سورة البقرة جبریلی نور کا چھیالیسواں حصہ تمام جہان میں پھیلا ہوا ہے جس سے کوئی فاسق اور فاجر اور پرلے درجہ کا بدکار بھی باہر نہیں۔بلکہ میں یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربہ میں آچکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاسقہ عورت جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے جس کی تمام جوانی بدکاری میں ہی گزری ہے کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے۔اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں بھی کہ جب وہ بادہ بسر و آشنا ببر کا مصداق ہوتی ہے کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ کچی نکلتی ہے۔مگر یا درکھنا چاہیے کہ ایسا ہی ہونا چاہئے تھا کیونکہ جبریلی نور آفتاب کی طرح جو اس کا ہیڈ کوارٹر ہے تمام معمورہ عالم پر حسب استعداد ان کی اثر ڈال رہا ہے اور کوئی نفس بشر د نیا میں ایسا نہیں کہ بالکل تاریک ہو کم سے کم ایک ذرہ ہی محبت وطن اصلی اور محبوب اصلی کی ادنی سے ادنی سرشت میں بھی ہے۔اس صورت میں نہایت ضروری تھا کہ تمام بنی آدم پر یہاں تک کہ ان کے مجانین پر بھی کسی قدر جبریل کا اثر ہوتا اور فی الواقعہ ہے بھی کیونکہ مجانین بھی جن کو عوام الناس مجذوب کہتے ہیں اپنے بعض حالات میں بوجہ اپنے ایک طور کے انقطاع کے جبریلی نور کے نیچے جاپڑتے ہیں تو کچھ کچھ ان کی باطنی آنکھوں پر اس نور کی روشنی پڑتی ہے جس سے وہ خدا تعالیٰ کے تصرفات خفیہ کو کچھ کچھ دیکھنے لگتی ہے مگر ایسی خوابوں یا ایسے مکاشفات سے نبوت اور ولایت کو کچھ صدمہ نہیں پہنچتا اور انکی شان بلند میں کچھ بھی فرق نہیں آتا اور کوئی التباس حیران کرنے والا واقعہ نہیں ہوتا۔کیونکہ درمیان میں ایک ایسا فرق بین ہے کہ جو بدیہی طور پر ہر یک سلیم العقل سمجھ سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ خواص اور عام کی خوا ہیں اور وہ مکاشفات اپنی کیفیت اور کمیت اتصالی و انفصالی میں ہرگز برابر نہیں ہیں۔جو لوگ خدائے تعالے کے خاص بندے ہیں وہ خارق عادت کے طور پر نعمت غیبی کا حصہ لیتے ہیں۔دُنیا اُن نعمتوں میں جو انہیں عطا کی جاتی ہیں صرف ایسے طور کی شریک ہے جیسے شاہ وقت کے خزانہ کے ساتھ ایک گدا در یوزہ گر ایک درم کے حاصل رکھنے کی وجہ سے شریک خیال کیا جائے لیکن ظاہر ہے کہ اس ادنی مشارکت کی وجہ سے نہ بادشاہ کی شان میں کچھ شکست آ سکتی ہے اور نہ اس گدا کی کچھ شان بڑھ سکتی ہے اور اگر ذرہ غور کر کے دیکھو تو یہ ذرہ مثال مشارکت ایک کرم شب تاب بھی جس کو پٹ بیجنا یا جگنو بھی کہتے ہیں آفتاب کے ساتھ رکھتا ہے تو کیا وہ اس مشارکت کی وجہ سے آفتاب کی عزت میں سے کوئی حصہ لے سکتا ہے۔توضیح مرام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۹۶٬۹۵) یہ عاجز ملائک اور حضرت جبرائیل کے وجود کو اُسی طرح مانتا ہے جس طرح قرآن اور حدیث میں وارد ہے اور جیسا کہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کی رُو سے ملائک کے اجرام سماوی سے خادمانہ تعلقات پائے