تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 214

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۴ سورة البقرة اُس کا عکس پڑے گا اور عکس بھی ہر یک جگہ ایک ہی مقدار پر نہیں پڑے گا بلکہ جیسی جیسی وسعت آئینہ قلب کی ہوگی اسی مقدار کے موافق اثر پڑے گا مثلاً اگر تم اپنا چہرہ آرسی کے شیشہ میں دیکھنا چاہو کہ جو ایک چھوٹا سا شیشہ ایک قسم کی انگشتری میں لگا ہوا ہوتا ہے تو اگر چہ اس میں بھی تمام چہرہ نظر آئے گامگر ہر ایک عضوا اپنی اصلی مقدار سے نہایت چھوٹا ہو کر نظر آئے گا لیکن اگر تم اپنے چہرہ کو ایک بڑے آئینہ میں دیکھنا چاہو جو تمہاری شکل کے پورے انعکاس کے لئے کافی ہے۔تو تمہارے تمام نقوش اور اعضاء چہرہ کے اپنی اصلی مقدار میں نظر آجائیں گے۔پس یہی مثال جبریل کی تاثیرات کی ہے۔ادنیٰ سے ادنی مرتبہ کے ولی پر بھی جبریل ہی تاثیر وجی کی ڈالتا ہے اور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر بھی وہی جبریل تاثیر وحی کی ڈالتا رہا ہے۔لیکن ان دونوں وجیوں میں وہی فرق مذکورہ بالا آرسی کے شیشہ اور بڑے آئینہ کا ہے۔یعنی اگر چہ بظاہر صورت جبریل وہی ہے اور اس کی تاثیرات بھی وہی مگر ہر یک جگہ مادہ قابلہ ایک ہی وسعت اور صفائی کی حالت پر نہیں اور یہ جو اس جگہ میں نے صفائی کا لفظ بھی لکھ دیا تو یہ اس بات کے اظہار کے لئے ہے کہ جبریلی تاثیرات کا اختلاف صرف کمیت کے ہی متعلق نہیں بلکہ کیفیت کے بھی متعلق ہے۔یعنی صفائی قلب جو شرط انعکاس ہے تمام افراد ملہمین کے ایک ہی مرتبہ پر کبھی نہیں ہوتے جیسے تم دیکھتے ہو کہ سارے آئینے ایک ہی درجہ کی صفائی ہرگز نہیں رکھتے۔بعض آئینے ایسے اعلیٰ درجہ کے آبدار اور مصفی ہوتے ہیں کہ پورے طور پر جیسا کہ چاہیئے دیکھنے والے کی شکل ان میں ظاہر ہو جاتی ہے اور بعض ایسے کثیف اور مکر اور پر غبار اور دود آمیز جیسے ہوتے ہیں کہ صاف طور پر ان میں شکل نظر نہیں آتی بلکہ بعض ایسے بگڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ اگر مثلاً ان میں دونوں لب نظر آویں تو ناک دکھائی نہیں دیتا اور اگر ناک نظر آ گیا تو آنکھیں نظر نہیں آتیں۔سو یہی حالت دلوں کے آئینہ کی ہے جو نہایت درجہ کا مصفی دل ہے اس میں مصفا طور پر انعکاس ہوتا ہے اور جو کسی قدر مکۃ رہے اس میں اسی قدر مکر ردکھائی دیتا ہے اور اکمل اور اتم طور پر یہ صفائی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو حاصل ہے ایسی صفائی کسی دوسرے دل کو ہر گز حاصل نہیں۔توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۸۶ تا ۸۸) خدائے تعالیٰ کی وحی میں جو پاک دلوں پر نازل ہوتی ہے جبریل کا تعلق جو شریعت اسلام میں ایک ضروری مسئلہ سمجھا گیا اور قبول کیا گیا ہے۔۔۔۔۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ حسب قانون قدرت مذکورہ بالا یہ امر ضروری ہے کہ وحی کے القا یا ملکہ وحی کے عطا کرنے کے لئے بھی کوئی مخلوق خدائے تعالی کے الہامی اور