تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 213

۲۱۳ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام لیکن اُس کے نزول کی تاثیرات کا دائرہ مختلف استعدادوں اور مختلف ظروف کے لحاظ سے چھوٹی چھوٹی یا بڑی بڑی شکلوں پر تقسیم ہو جاتا ہے۔نہایت بڑا دائرہ اس کی روحانی تاثیرات کا وہ دائرہ ہے جو حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی وجی سے متعلق ہے۔اسی وجہ سے جو معارف و حقائق و کمالات حکمت و بلاغت قرآن شریف میں اکمل اور اتم طور پر پائے جاتے ہیں یہ عظیم الشان مرتبہ اور کسی کتاب کو حاصل نہیں اور یہ بھی یادرکھنا چاہیئے (جیسا کہ پہلے بھی ہم اس کی طرف اشارہ کر چکے ہیں ) کہ ہر ایک فرشتہ کی تاثیر انسان کے نفس پر دو قسم کی ہوتی ہے۔اوّل وہ تاثیر جو رحم میں ہونے کی حالت میں باذنہ تعالیٰ مختلف طور کے تخم پر مختلف طور کا اثر ڈالتی ہے پھر دوسری وہ تاثیر ہے جو بعد طیاری وجود کے اس وجود کی مخفی استعدادوں کو اپنے کمالات ممکنہ تک پہنچانے کے لئے کام کرتی ہے۔اس دوسری تاثیر کو جب وہ نبی یا کامل ولی کے متعلق ہو وجی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور یوں ہوتا ہے کہ جب ایک مستعد نفس اپنے نورِ ایمان اور نور محبت کے کمال سے مبدء فیوض کے ساتھ دوستانہ تعلق پکڑ لیتا ہے اور خدائے تعالیٰ کی زندگی بخش محبت اُس کی محبت پر پر توہ انداز ہو جاتی ہے تو اس حد اور اس وقت تک جو کچھ انسان کو آگے قدم رکھنے کے لئے مقدور حاصل ہوتا ہے یہ دراصل اس پنہانی تاثیر کا اثر ظاہر ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کے فرشتہ نے انسان کے رحم میں ہونے کی حالت میں کی ہوتی ہے پھر بعد اس کے جب انسان اس پہلی تاثیر کی کشش سے یہ مرتبہ حاصل کر لیتا ہے تو پھر وہی فرشتہ از سر نو اپنا اثر نور سے بھرا ہوا اس پر ڈالتا ہے مگر یہ نہیں کہ اپنی طرف سے بلکہ وہ درمیانی خادم ہونے کی وجہ سے اس نالی کی طرح جو ایک طرف سے پانی کو پہنچتی اور دوسری طرف اس پانی کو پہنچادیتی ہے خدائے تعالیٰ کا نور فیض اپنے اندر کھینچ لیتا ہے پھر عین اس وقت میں کہ جب انسان بوجہ اقتران محبتیں روح القدس کی نالی کے قریب اپنے تیں رکھ دیتا ہے معا اس نالی میں سے فیض وہی اس کے اندر گر جاتا ہے یا یوں کہو کہ اس وقت جبرئیل اپنا نورانی سایہ اس مستعد دل پر ڈال کر ایک عکسی تصویر اپنی اس کے اندرلکھ دیتا ہے تب جیسے اس فرشتہ کا جو آسمان پر مستقر ہے جبریل نام ہے، اس عکسی تصویر کا نام بھی جبریل ہی ہوتا ہے یا مثلاً اس فرشتہ کا نام روح القدس ہے تو عکسی تصویر کا نام بھی روح القدس ہی رکھا جاتا ہے سو یہ نہیں کہ فرشتہ انسان کے اندر گھس آتا ہے بلکہ اس کا عکس انسان کے آئینہ قلب میں نمودار ہو جاتا ہے مثلاً جب تم نہایت مصفی آئینہ اپنے منہ کے سامنے رکھ دو گے تو موافق دائرہ مقدار اس آئینہ کے تمہاری شکل کا عکس بلا توقف اس میں پڑے گا۔یہ نہیں کہ تمہارا منہ اور تمہارا سر گردن سے ٹوٹ کر اور الگ ہو کر آئینہ میں رکھ دیا جائے گا بلکہ اس جگہ رہے گا جو رہنا چاہئے صرف