تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 208

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۸ سورة البقرة قدر پلید معنے مندرج ہیں کہ عربی اور عبرانی زبان کی رُو سے ملعون ہونے کی حالت میں ان لوازم کا پایا جانا ضروری ہے کہ شخص ملعون اپنی دلی خواہش سے خدا تعالیٰ سے بیزار ہواور خدا تعالیٰ اس سے بیزار ہواور وہ خدا تعالیٰ سے اپنے دلی جوش کے ساتھ دشمنی رکھے اور ایک ذرہ محبت اور تعظیم اللہ جل شانہ کی اُس کے دل میں نہ ہو۔اور ایسا ہی خدا تعالی کے دل میں بھی ایک ذرہ اُس کی محبت نہ ہو یہاں تک کہ وہ شیطان کا وارث ہو نہ خدا کا۔اور یہ بھی لعنتی ہونے کے لوازم میں سے ہے کہ شخص ملعون خدا تعالیٰ کی شناخت اور معرفت اور محبت سے بکلی بے نصیب ہو۔تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۳۶ تا ۲۳۸) لعنت ایک ایسا مفہوم ہے جو شخص ملعون کے دل سے تعلق رکھتا ہے۔اور کسی شخص کو اس وقت لعنتی کہا جاتا ہے جبکہ اس کا دل خدا سے بالکل برگشتہ اور اس کا دشمن ہو جائے۔اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ لعنت قرب کے مقام سے رڈ کرنے کو کہتے ہیں۔اور یہ لفظ اس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جس کا دل خدا کی محبت اور اطاعت سے دور جا پڑے اور درحقیقت وہ خدا کا دشمن ہو جائے۔لفظ لعنت کے یہی معنے ہیں جس پر تمام اہل لغت نے اتفاق کیا ہے۔لعنت شیطان سے مخصوص ہے اور لعین شیطان کا نام ہے اور محنتی وہ ہوتا ہے جو شیطان سے نکلا اور شیطان سے ملا ہوا اور خودشیطان ہے۔( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۳۲، ۳۳۳) کتاب لسان العرب میں لعن کے یہ معنی لکھتے ہیں کہ اللعْنُ الْإِبْعَادُ وَالظَّرْ دُمِنَ الْخَيْرِ يعني لعنت کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک نیکی اور مال اور برکت اور بہتری سے کسی کو محروم کیا جائے۔پھر دوسرے معنی لعنت کے یہ لکھے ہیں کہ الا بُعَادُ مِنَ اللهِ وَمِنَ الْخَلْقِ یعنی لعنت کے یہ معنی ہیں کہ جناب الہی سے مردود ہو جاوے اور قبولیت سے محروم رہے۔اور مخلوق کی نظر سے بھی گر جاوے اور علات اور وجاہت بھی جاتی رہے۔غرض خدا کے نزدیک لعنت کا لفظ تمام نامرادیوں اور مردود اور مخذول ہونے کے معنوں پر محیط ہے اور ہر ایک نوع کی برکت سے محروم اور مخذول اور مردود رہنا اس کے لوازم میں سے ہے اور جس شخص پر خدا کی لعنت وارد ہو جائے اُس کا ثمرہ ہلاکت اور تباہی ہے اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نجران کے عیسائی مجھ سے مباہلہ کرتے (جو لَعَنَتُ اللهِ عَلَى الْكَذِبِین کے ساتھ کیا جاتا ہے ) تو اس قدر موت اور ہلاکت اُن پر آتی کہ اُن کے درختوں کے پرندے بھی مرجاتے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۵۲) با تفاق تمام اہل زبان لعنت کا مفہوم دل سے تعلق رکھتا ہے اور اس حالت میں کسی کو ملعون کہا جائے گا