تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 207

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۷ سورة البقرة عَلَيْهِمْ سُلْطَنَّ (الحجر : ۴۳) وارد ہے۔اور قرآن کریم سے دو قسم کی مخلوق ثابت ہوتی ہے اوّل وہ جو روح القدس کے فرزند ہیں اور بن باپ پیدا ہونا تو کوئی خصوصیت نہیں۔دوم شیطان کے فرزند۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۴ مورخه ۲۶ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۳) وقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَعَنَهُمُ اللهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًا مَا يُؤْمِنُونَ۔لعنت کا لفظ جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے نہایت پلید معنے رکھتا ہے اور اس لفظ کے ایسے خبیث معنے ہیں کہ بجز شیطان کے اور کوئی اس کا مصداق نہیں ہوسکتا۔کیونکہ عربی اور عبرانی کی زبان میں ملعون اس کو کہتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کی رحمت سے ہمیشہ کے لئے رو کیا جائے۔اسی وجہ سے لعین شیطان کا نام ہے کیونکہ وہ ہمیشہ کے لئے رحمت الہی سے رڈ کیا گیا ہے۔اور خدا تعالی کی تمام کتابوں میں تو ریت سے قرآن شریف تک کسی ایسے شخص کی نسبت ملعون ہونے کا لفظ نہیں بولا گیا جس نے انجام کا رخدا کی رحمت اور فضل سے حصہ لیا ہو۔بلکہ ہمیشہ سے یہ ملعون اور لعنتی کا لفظ انہی ازلی بدبختوں پر اطلاق پاتا رہا ہے جو ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمت اور نجات اور نظر محبت سے بے نصیب کئے گئے اور خدا کے لطف اور مہربانی اور فضل سے ابدی طور پر دور اور مجبور ہو گئے اور ان کا رشتہ دائمی طور پر خدا تعالیٰ سے کاٹ دیا گیا اور اُس جہنم کا خلود اُن کے لئے قرار پایا جو خدا تعالیٰ کے غضب کا جہنم ہے اور خدا تعالیٰ کی رحمت میں داخل ہونے کی اُمید نہ رہے اور نبیوں کے منہ سے بھی یہ لفظ کبھی ایسے اشخاص کی نسبت اطلاق نہیں پایا جو کسی وقت خدا کی ہدایت اور فضل اور رحم سے حصہ لینے والے تھے۔اس لئے یہودیوں کی مقدس کتاب اور اسلام کی مقدس کتاب کی رُو سے یہ عقیدہ متفق علیہ مانا گیا ہے کہ جو شخص ایسا ہو کہ خدا کی کتابوں میں اُس پر ملعون کا لفظ بولا گیا ہو۔وہ ہمیشہ کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمت سے محروم اور بے نصیب ہوتا ہے۔جیسا کہ اس آیت میں یہی اشارہ ہے۔مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أَخِذُوا وَقُتِلُوا تَقْتِيلًا (الأحزاب : ۶۲) یعنی زنا کار اور زنا کاری کی اشاعت کرنے والے جو مدینہ میں ہیں یہ عنتی ہیں یعنی ہمیشہ کے لئے خدا کی رحمت سے رڈ کئے گئے اس لئے یہ اس لائق ہیں کہ جہاں ان کو پا و قتل کر دو۔پس اس آیت میں اس بات کی طرف یہ عجیب اشارہ ہے کہ لعنتی ہمیشہ کے لئے ہدایت سے محروم ہوتا ہے اور اس کی پیدائش ہی ایسی ہوتی ہے جس پر جھوٹ اور بدکاری کا جوش غالب رہتا ہے۔اور اسی بنا پر قتل کرنے کا حکم ہوا کیونکہ جو قابل علاج نہیں اور مرض متعدی رکھتا ہے اس کا مرنا بہتر ہے۔اور یہی توریت میں لکھا ہے کہ لعنتی ہلاک ہو گا۔علاوہ اس کے ملعون کے لفظ میں یہ کس