تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 176
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة البقرة بیچا یا جاوے گا۔البدر جلد نمبر ۵ ۶ مورخه ۲۸ نومبر و ۵/ دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۳۸) احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ بھی طاعون سے فوت ہوئے لیکن ان کے لیے وہ شہادت تھی مومن کے واسطے یہ شہادت ہی ہے پہلی امتوں پر جزا مِنَ السَّمَاء (البقرة : 10 ) تھی۔صحابہ کس قدر اعلیٰ درجہ رکھتے تھے لیکن ان میں سے بھی اس کا نشانہ ہو گئے اس سے ان کے مومن میں کوئی شبہ نہیں ابو عبیدہ بن الجراح جیسے صحابی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بڑے ہی عزیز تھے طاعون ہی سے شہید ہوئے تھے۔طاعون سے مرنا عام مومنوں کے لیے تو کوئی حرج نہیں البتہ جہاں انتظام الہی میں فرق آتا ہے وہاں خدا تعالیٰ ایسا معاملہ نہیں کرتا ہے یعنی خدا تعالے کا کوئی مامور ومرسل طاعون کا شکار نہیں ہو سکتا اور نہ کسی اور خبیث مرض سے ہلاک ہوتا ہے کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کے انتظام میں بڑا نقص اور خلل پیدا ہوتا ہے پس انبیاء ورسل اور خدا کے ماموران امراض سے بچائے جاتے ہیں اور یہی نشان ہوتا ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۵ _ملفوظات جلد سوم صفحه ۵۹۴،۵۹۳) b وَ إِذِ اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِبُ بَعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا b عَشْرَة عَيْنا قَدْ عَلِمَ كُلُّ أَنَاسٍ مَشْرَبَهُمْ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِنْ رِزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ اور فساد کی نیت سے زمین پرمت پھرا کرو یعنی اس نیت سے کہ چوری کریں یا ڈاکہ ماریں یا کسی کی جیب کتریں یا کسی اور نا جائز طریق سے بیگانہ مال پر قبضہ کریں۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۳۴۷) وووو وَاذْ قُلْتُمْ يمُوسى لَن نَّصْبِرَ عَلَى طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجُ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الأَرْضُ مِنْ بَعْلِهَا وَقِتَابِهَا وَفُومِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا قَالَ ا تَسْتَبْدِلُونَ الَّذِى هُوَ اَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ اهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَكُمْ مَّا b سالتُم وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الدِّلَةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَ بَاءُو بِغَضَبٍ مِّنَ اللهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِأَيْتِ اللهِ وَ يَقْتُلُونَ النَّبِيِّنَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْاوَ كَانُوا يَعْتَدُونَ جو واقعات آنکھوں کے سامنے ہیں وہ صاف شہادت دے رہے ہیں کہ درحقیقت اس اُمت اور اس