تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 140

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴ سورة البقرة الَّذِي اسْمُهُ مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ، وَهُوَ سَيِّدُ وُلْدِ آدم کی اولاد کا سردار اور خلقت کا امام اور سب سے ادَمَ وَأَتْقَى وَأَسْعَدُ وَإِمَامُ الْخَلِيقَةِ وَ زیادہ تھی اور سعید ہے۔اور اس کی طرف خدا تعالیٰ کا یہ إِلَيْهِ أَشَارَ اللهُ في قَوْلِهِ إِذْ قَالَ رَبُّكَ قول اشارہ کرتا ہے : إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ و, 66 لِلْمَلَكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً وَ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (الآیۃ) اور خدا کی عزت اور جلال کی بِعِزَّةِ اللهِ وَجَلَالِهِ أَنَّ لَفَظَ إِذْ يَدُلُّ بِدَلَالَةٍ قسم کہ إِذْ کا لفظ قطعی دلالت کے ساتھ اس مقصود پر قطعِيَّةٍ عَلى هَذَا الْمَقْصُوْدِ وَيَدُلُّ عَلَيْهِ دلالت کرتا ہے۔اور اگر تو یہود کی طرح نہیں تو آیت کا سِيَاقُ الْآيَةِ وَسِبَاقُهَا إِن كُنتَ لَسْتَ سیاق و سباق تجھ پر اس راز کو کھول دے گا پس شک نہیں كَالْيَهُودِ۔فَلَا شَكَ أَنَّهُ ادَهُ آخِرِ الزَّمَانِ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخر زمانہ کے آدم ہیں وَالأُمَّهُ كَالثَّرِيَّةِ لِهَذَا النَّبِي الْمَحْمُودِ وَ اور امت اس نبی محمود کی ذریت کی بجا ہے۔اور اس إِلَيْهِ أَشَارَ في قَوْلِهِ " إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ " کی طرف خدا تعالیٰ کے اس قول کا اشارہ ہے انا 66۔فَأَمْعِن فِيْهِ وَ تَفَكَّرَ وَ لَا تَكُنْ مِن اَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ (الکوثر : ۲) پس ان معنوں میں غور اور الْغَافِلِينَ وَ إِنَّ زَمَانَ رُوحَانِيَّةِ نَبِيِّنَا فکر کر اور غافلوں میں سے مت ہو۔اور ہمارے نبی کی عَلَيْهِ السَّلَامُ قَدْ بَدَأَ مِنَ الْأَلف الخامس روحانیت کا زمانہ پانچویں ہزار سے شروع اور چھٹے ہزار وَ كَمل إلى أخرِ الْأَلْفِ الشَّادِس وَ إِلَيْهِ کے آخر تک کامل ہوا اور اس کی طرف خدا تعالیٰ کا قول أَشَارَ في قَوْلِهِ " لِيُظهِرَهُ عَلَى الدِّينِ۔" اشارہ کرتا ہے کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ (الصف: ١٠) وَتَفْصِيلُ الْمَقَامِ أَنَّ نَبِيَّنَا صَلَّى الله اور اس مقام کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَاءَ عَلى قَدَمِ آدَمَ، وَإِنَّ آدم کے قدم پر آئے اور آدم کی روحانیت نے پانچویں رُوحَانِيَّةَ ادَمَ قَدْ طَلَعَتْتُ في الْيَوْمِ دن میں طلوع فرمایا کیونکہ اس دن تک سب کچھ جو اس الخامس لِمَا خُلِقَ إلى هَذَا الْيَوْمِ كُلّ ما کی ہویت کے اجزاء سے اور اس کی ماہیت کی حقیقت كَانَ مِنْ أَجْزَاءِ هُوَيْتِهِ وَحَقِيقَةِ مَاهِيّته سے تھا پیدا ہو گیا کیونکہ زمین اپنی تمام مخلوق کے ساتھ فَإِنَّ الْأَرْضَ يُجَمِيعِ مَخْلُوقَاتِهَا وَ السَّمَاءُ اور آسمان اپنی تمام مصنوعات کے ساتھ آدم کی ہویت يُجَمِيعِ مَصْنُوعَاتِها كَانَتْ حَقِيقَةٌ هُوِيَّةِ کی حقیقت تھے۔گویا آدم کا مادہ جمادی حقیقت سے أدَمَ كَانَ مَاذَتَهُ قَدِ انْتَقَلَتْ مِنَ الْحَقِيقَةِ نباتی حقیقت کی طرف اور نباتی حقیقت سے حیوانیت کی