تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 139

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۳۹ سورة البقرة روحانی طور پر انسان کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی کمال نہیں کہ وہ اس قدر صفائی حاصل کرے کہ خدا تعالیٰ کی تصویر اُس میں کھینچی جائے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اِنِّی جَاعِلٌ في الْأَرْضِ خَلِيفَةً یعنی میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔یہ ظاہر ہے کہ تصویر ایک چیز کی اصل صورت کی خلیفہ ہوتی ہے یعنی جانشین۔اور یہی وجہ ہے کہ جس جس موقعہ پر اصل صورت میں اعضا واقع ہوتے ہیں اور خط و خال ہوتے ہیں اُسی اُسی موقعہ پر تصویر میں بھی ہوتے ہیں اور حدیث شریف اور نیز توریت میں بھی ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا۔پس صورت سے مراد یہی روحانی تشابہ ہے۔اور پھر یہ بھی ظاہر ہے کہ جب مثلاً ایک نہایت صاف آئینہ پر آفتاب کی روشنی پڑتی ہے تو صرف اسی قدر نہیں ہوتا کہ آفتاب اس کے اندر دکھائی دیتا ہے بلکہ وہ شیشہ آفتاب کی صفات بھی ظاہر کرتا ہے اور وہ یہ کہ اُس کی روشنی انعکاسی طور پر دوسرے پر بھی پڑ جاتی ہے۔پس یہی حال روحانی آفتاب کی تصویر کا ہوتا ہے کہ جب ایک قلب صافی اُس سے ایک انعکاسی شکل قبول کر لیتا ہے تو آفتاب کی طرح اُس میں سے بھی شعائیں نکل کر دوسری چیزوں کو منور کرتی ہیں گویا تمام آفتاب اپنی پوری شوکت کے ساتھ اُس میں داخل ہو جاتا ہے۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۷) وَإِنَّ نَبِيَّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اور بے شک ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے أدَم خَائِمَةِ الدُّنْيَا وَ مُنْتَهَى الْأَيامِ وَخُلِقَ خاتمہ کے آدم اور زمانہ کے دنوں کے معنی تھے اور كَادَمَ بَعْدَ مَا خُلِقَ عَلَى الْأَرْضِ كُلُّ نَوع آنحضرت آدم کی طرح پیدا کیے گئے اس کے بعد کہ مِنَ الدَّوَابِ وَكُلُّ صِنف من الشباع زمین پر ہر طرح کے کیڑے مکوڑے اور چار پائے اور وَالْأَنْعَامِ وَلَمَّا خَلَقَ اللهُ هَذِهِ الْخَلِيقَة درندے پیدا ہو گئے اور جس وقت خدا نے اس مخلوق کو مِنْ أَنْوَاعِ النَّعَمِ وَالسَّبَاعِ وَالسُّودِ عَلَى یعنی حیوانوں اور درندوں اور چیونٹیوں کو زمین پر پیدا الْأَرْضِينَ أَغْنِى كُلَّ حِزْبِ مِنَ الْفَاجِرِينَ وَ کیا یعنی فاجروں اور کافروں اور دنیا پرستوں کے ہر الْكَافِرِينَ وَالَّذِينَ افَرُوا الدُّنْيَا عَلَى الدِّينِ ایک گروہ کو پیدا کیا اور آسمان میں ستارے اور وَخَلَقَ فِي السَّمَاءِ نُجُومَهَا وَأَقْتارَهَا چاندوں اور سور جوں یعنی پاکوں کے نفوس مستعدہ کو وَهُمُؤسَهَا أَغْلِى التَّفُوسَ الْمُسْتَعِدَّةُ مِن ظہور میں لایا۔تو بعد اس کے اُس آدم کو وجود کا خلعت الظَّاهِرِينَ الْمُتَوَرِيْنَ خَلَقَ بَعْدَ هَذَا آدَمَ پہنایا جس کا نام محمد اور احمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ