تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 122

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۲ سورة البقرة دلالت قویہ قطعیہ یقینیہ رکھتی ہیں لیکن افسوس کہ دنیا میں صدق دل سے خدا تعالیٰ کو طلب کر نے والے اور اس کی معرفت کی راہوں کے بھوکے اور پیاسے بہت کم ہیں اور اکثر ایسے لوگوں سے دنیا بھری پڑی ہے جو پکارنے والے کی آواز نہیں سنتے اور بلانے والے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور جگانے والے کے شور سے آنکھ نہیں کھولتے۔ہم نے اس امر کی تصدیق کرانے کے لئے خدا تعالیٰ سے فضل اور توفیق اور اذن پا کر ہر ایک مخالف کو بلا یا مگر کوئی شخص دل کے صدق اور سچی طلب سے ہماری طرف متوجہ نہیں ہوا اور اگر کوئی متوجہ ہوتا یا اب بھی ہو تو وہ زندہ خدا جس کی قدرتیں ہمیشہ عقلمندوں کو حیران کرتی رہی ہیں وہ قادر قیوم جو قدیم سے اس جہان کے حکیموں کو شرمندہ اور ذلیل کرتا رہا ہے بلا شبہ آسمانی چمک سے اس پر حجت قائم کرے گا دنیا میں بڑی خرابی جو افعال شنیعہ کا موجب ہو رہی ہے اور آخرت کی طرف سر اٹھانے نہیں دیتی در اصل یہی ہے کہ اکثر لوگوں کو جیسا کہ چاہئے خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں۔بعض تو اس زمانہ میں کھلی کھلی ہستی باری تعالیٰ کے ہی منکر ہیں اور بعض اگر چہ زبان سے قائل ہیں مگر ان کے اعمال اور خیال اور ہاتھ اور پیر گواہی دے رہے ہیں کہ وہ اللہ جل شانہ پر ایمان نہیں رکھتے اور دن رات دنیا کی فکروں میں ایسے لگے ہوئے ہیں کہ مرنا بھی یاد نہیں اس کا بھی یہی سبب ہے کہ اکثر دلوں پر ظلمت چھا گئی ہے اور نور معرفت کا ایک ذرا دلوں میں باقی نہیں رہا۔اب واضح ہو کہ ہم ملائک کی ضرورت وجود کا ثبوت بنگلی دے چکے جس کا ماحصل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جو اپنے تنزہ اور تقدس میں ہر یک برتر سے برتر ہے اپنی تدنیات اور تجلیات میں مظاہر مناسبہ سے کام لیتا ہے اور چونکہ جسم اور جسمانی چیزیں اپنے ذاتی خواص اور اپنی ہستی کی کامل تقیدات سے مقید ہو کر اور بمقابل ہستی اور وجود باری اپنا نام ہست اور موجود ر کھا کر اور اپنے ارادوں یا اپنے طبعی افعال سے اختصاص پا کر اور ایک مستقل وجود جامع ہو یت نفس اور مانع ہویت غیر بن کر ذات علت العلل اور فیاض مطلق سے دور جا پڑے ہیں اور ان کے وجود کے گردا گرد اپنی ہستی اور انانیت کا اور مخلوقیت کا ایک بہت ہی موٹا حجاب ہے اس لئے وہ اس لائق نہیں رہیں کہ ذات احدیت کے وہ فیضان براہ راست ان پر نازل ہوسکیں جو صرف اس صورت میں نازل ہو سکتے ہیں کہ جب تُجب مذکورہ بالا درمیان نہ ہوں اور ایک ایسی ہستی ہو جو بنگلی نیستی کے مشابہ ہو کیونکہ ان تمام چیزوں کی ہستی نیستی کے مشابہ نہیں ہر ایک چیز اس قسم کی مخلوقات میں سے بزبانِ حال اپنی ہستی کا بڑے زور وشور سے اقرار کر رہی ہے آفتاب کہہ رہا ہے کہ میں وہ ہوں جس پر تمام گرمی و سردی و روشنی کا مدار ہے جو ۳۶۵ صورتوں میں تین سو پینسٹھ قسم کی تاثیریں دنیا میں ڈالتا ہے اور اپنی شعاعوں کے