تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 90
سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الْبَلاغَةِ إِلَّا فِي الرِّيَاغَةِ، فَإِنَّ الْعَرَب في دعوى کشتی گاہ کے میدان میں کیا ہے کیونکہ عرب اس کے زَمَانِهِ كَانُوا فُصَحَاءِ الْعَصْرِ وَبُلَغَاءِ الدَّهْرِ زمانہ میں فصحاء عصر اور بلغاء دہر تھے اور ان کے باہم فخر وَكَانَ مَدَارُ تَفَاخُرِهِمْ عَلى غُرَرِ الْبَيَانِ وَ کرنے کا مدار صحیح اور با آب و تاب تقریروں پر تھا اور دُرَرِهِ وَ ثِمَارِ الْكَلَامِ وَ زَهْرِهِ، وَكَانُوا نیز کلام کے پھلوں اور پھولوں پر ناز کرتے تھے اور ان يُنَاضِلُونَ بِالْقَصَائِدِ الْمُبْتَكِرَةِ وَ الخطب کی لڑائیاں نو ایجاد قصیدوں اور پاکیزہ خطبوں کے ساتھ الْمُحَيَّرَةِ، وَلكِن مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَتَكَلَّمُوا ہوتی تھیں مگر ان کو لطائف حکمیہ میں بات کرنے کا فِي اللَّطَائِفِ الْحِكْميَّةِ، وَ مَا مَسَّتْ بَيَانَهُمْ سلیقہ نہ تھا اور ان کے بیان کو معارف الہیہ کی بو بھی نہیں رَائِحَةُ الْمَعَارِفِ الْإِلَهِيَّةِ، بَلْ كَانَ مَسْرَحُ پہنچی تھی بلکہ ان کے فکروں کی چراگاہ صرف عشقیہ شعروں اور أَفْكَارِهِمْ إِلَى الْأَبْيَاتِ الْعِشْقِيَّةِ وَ بنانے والے اور غافل کرنے والے بیتوں تک تھی اور الْأَضَاحِيكِ الْمُلْهِيَّةِ، وَمَا كَانُوا عَلى مضامین حکمیہ کی مرضع نگاری پر وہ قادر نہ تھے حالانکہ وہ تَرْصِيعِ مَضَامِيْنِ الْحِكْمِ قَادِرِيْنَ وَكَانُوا ایک زمانہ سے نظم اور نثر اور لطائف بیان کرنے کے قَدْ مَرَلُوا مِنْ سِنِينَ عَلى أَنوَاعِ النظم مشتاق تھے اور اپنے ہم جنسوں میں مسلم اور مقبول تھے وَالتَّثْرِ وَ لَطَائِفِ الْبَيَانِ، وَسُلِّمُوا وَقُبِلُوا اور اہلِ زبان اور میدانوں میں سبقت کرنے والے في الْأَقْرَانِ، وَكَانُوا أَهْلَ اللَّسَانِ وَ سَوَابِق تھے۔پس خدا تعالیٰ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اگر الْمَيَادِيْنِ فَخَاطَبَهُمُ اللهُ وَقَالَ إِن كُنتُم تمہیں اس کلام میں شک ہو جو ہم نے اپنے بندہ پر اتارا فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ من ہے تو تم بھی کوئی سورت اس کی مانند بنا کر لاؤ اور اگر بنا مِثْلِهِ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَ لَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا نہ سکو اور یا درکھو کہ ہرگز بنا نہیں سکو گے سو اس آگ سے النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ڈرو جس کے ہیزم افروختنی آدمی اور پتھر ہیں اور وہ أعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ، وَقَالَ قُلْ لين اجتمعت آگ کافروں کے لئے طیار کی گئی ہے۔اور فرمایا کہ اگر الإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بمثل هذا تمام جن و انس اس بات کے لئے اکٹھے ہو جائیں کہ اس الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمُ قرآن کے کوئی مثل بنا لا دیں تو ہرگز نہیں لاسکیں گے۔لاویں لِبَعْضٍ فَهِيرًا فَعَـجِـز الكُفَّارُ عَنِ اگر چہ ایک دوسرے کی مدد بھی کریں۔پس کفار المُقَابلَةِ وَوَلَّوُا البَرَ كَالْمَعْلُوبِيْنَ مقابلہ سے عاجز آ گئے اور مغلوب ہو کر پیٹھیں پھیر ص بنی اسرآئیل : ۸۹ وو w وو