تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 70
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة جلالی رنگ دکھا نا پڑتا ہے۔اس وقت چونکہ اس کی ضرورت نہیں اس واسطے ہم جمالی رنگ میں آئے ہیں۔احکم جلد ۵ نمبر ۶ مؤرخه ۱۷ فروری ۱۹۰۱ صفحه ۱۴) کتاب دساتیر مجوس میں یہ فقرات ہیں ” بنام ایزدبخشا ئندہ بخشائش گرمہربان دادگر “ جو بظاہر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ کے مشابہ ہیں لیکن جو لفظ رحمان اور رحیم میں پر حکمت فرق ہے وہ فرق ان لفظوں میں موجود نہیں اور جو اللہ کا اسم وسیع معنی رکھتا ہے وہ ایزد کے لفظ میں ہرگز پائے نہیں جاتے۔لہذا یہ ترکیب پارسیوں کی بسم اللہ سے کچھ مناسبت نہیں رکھتی غالباً یہ الفاظ پیچھے سے بطور سرقہ لکھے گئے ہیں۔بہر حال یہ نقص دلالت کرتا ہے کہ یہ انسان کا قول ہے۔( من الرحمن۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۵۰،۱۴۹ حاشیه در حاشیه ) اللہ جو خدائے تعالیٰ کا ایک ذاتی اسم ہے اور جو تمام جمیع صفات کاملہ کا مجمع ہے۔۔۔۔کہتے ہیں کہ اسم اعظم یہی ہے اور اس میں بڑی بڑی برکات ہیں۔لیکن جس کو وہ اللہ یا دہی نہ ہو وہ اس سے کیا فائدہ اُٹھائے گا۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۹۸) قرآن کی اصطلاح کی رُو سے اللہ اُس ذات کا نام ہے جس کی تمام خوبیاں حسن و احسان کے کمال کے نقطہ پر پہنچی ہوئی ہوں اور کوئی منقصت اُس کی ذات میں نہ ہو۔قرآن شریف میں تمام صفات کا موصوف صرف اللہ کے اسم کو ہی ٹھہرایا ہے تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اللہ کا اسم تب متحقق ہوتا ہے کہ جب تمام صفات کا ملہ اس میں پائی جائیں۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۷) اللہ جس کا ترجمہ ہے وہ معبود یعنی وہ ذات جو غیر مدرک اور فوق العقول اور وراء الوراء اور دقیق در دقیق ہے جس کی طرف ہر ایک چیز عابدانہ رنگ میں یعنی عشقی فنا کی حالت میں جو نظری فنا ہے یا حقیقی فنا کی حالت میں جو موت ہے رجوع کر رہی ہے۔اللہ کا نام خدا تعالی کے لئے اسم اعظم ہے۔اسماء اسما (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۲۶۸) (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۲۶۸) اللہ جامع جمیع شیون کا ہے اور اسم اعظم ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کے ساتھ اسم اعظم کی معیت مع تمام صفات کے پائی جاتی ہے۔(احکم نمبر ۲ جلد ۷ مؤرخہ ۱۷ارجنوری ۱۹۰۳ صفحہ ۷ ) قرآن شریف جس خدا کو منوانا چاہتا ہے وہ تمام نقائص سے منڈہ اور تمام صفات کا ملہ سے موصوف ہے۔کیونکہ اللہ کالفظ اسی ہستی پر بولا جاتا ہے جس میں کوئی نقص ہو ہی نہیں اور کمال دو قسم کے ہوتے ہیں یا بلحاظ حسن کے یا بلحاظ احسان کے۔پس وہ دونوں قسم کے کمال اس لفظ میں پائے جاتے ہیں۔دوسری قوموں نے جو لفظ خدا تعالی کے لئے تجویز کئے ہیں وہ ایسے جامع نہیں ہیں اور یہی لفظ اللہ کا دوسرے باطل مذاہب کے معبودوں کی ہستی اور اُن کی صفات کے مسئلہ کی پوری تردید کرتا ہے۔(الحکم نمبر ۷ جلد ۷ مؤرخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۲)