تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 62
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۶۲ سورة الفاتحة هُمَا مَظْهَرُ سِرِ الذَّاتِ ثُمَّ أُعْطِيَ مِنْهُمَا ہیں اور اصل رحمانیت اور رحیمیت ہی ہے اور یہ دونوں نَصِيبٌ كَامِل لِنَبِيْنَا إمَامِ النهج صفات ذات الہی کے بھید کی مظہر ہیں۔پھر ان دونوں الْقَوِيْمِ۔فَجُعِلَ اسْمُهُ مُحَمَّدًا ظِلَّ الرَّحْمَانِ صفات سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو صراط مستقیم وَ اسْمُهُ أَحْمَدَ ظِلَّ الرَّحِيْمِ وَالسّر فِيْهِ کے امام ہیں کامل حصہ عطا کیا گیا۔پس آپ کا نام محمد بطور أَنَّ الْإِنْسَانَ الْكَامِلَ لَا يَكُونُ كَامِلاً إِلَّا رحمان کے ظل کے اور احمد نام بطور رحیم کے ظلّ کے رکھا بَعْدَ التَّخَلْقِ بِالْأَخْلَاقِ الْإِلَهِيَّةِ وَ گیا۔اور اس میں یہ راز ہے کہ کامل انسان الہی اخلاق اور صِفَاتِ الرُّبُوَبِيَّةِ۔وَقَد عَلِمْتَ أَنَّ أَمْرَ ربانی صفات کے رنگ میں رنگین ہونے کے بعد ہی کامل الصَّفَاتِ كُلِّهَا تَؤُولُ إِلَى الرَّحْمَتَيْنِ ہوتا ہے اور آپ جان چکے ہیں کہ تمام صفات کا مال یہی دو اللَّتَيْنِ سَمَّيْنَاهُمَا بِالرّحمانية و رحمتیں ہیں۔جن کا نام ہم نے رحمانیت اور رحیمیت رکھا الرَّحِيمِيَّةِ وَعَلِمْتَ أَنَّ الرَّحْمَانِيَّةَ رَحْمَةٌ ہے۔پھر آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ رحمانیت ایک عام رحمت مطلَقَةٌ عَلى سَبِيْلِ الْاِمْتِنَانِ وَيَرِدُ ہے جو بطور احسان ہوتی ہے اور اس کا فیضان ہر مومن ، کافر فَيْضَاتُهَا عَلى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَكَافِرٍ بَلْ كُلّ بلکہ ہر نوع حیوان کو پہنچتا ہے لیکن رحیمیت خدائے أَحْسَنُ نَوعِ الْحَيَوَانِ وَأَمَّا الرَّحِيمِيَّةُ فَهِيَ رَحْمَةُ الخَالِقِينَ کی طرف سے ایک رحمت ہے جو جانوروں اور وجُوبِيَّةٌ مِّنَ اللهِ أَحْسَنِ الْخَالِقِينَ کافروں کے علاوہ بالضر ور صرف مومنوں سے مختص ہے۔پس وَجَبَتْ لِلْمُؤْمِنِينَ خَاصَّةٌ مِّن دُونِ لازم ہوا کہ انسان کامل یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان حَيَوَانَاتٍ أُخْرَى وَ الْكَافِرِينَ فَلَزِمَ أَن دونوں صفات کے مظہر ہوتے۔اسی لئے پروردگار عالم کی تَكُونَ الْإِنْسَانُ الْعَامِلُ أَغْنِي مُحَمَّدًا طرف سے آپ کا نام محمد اور احمد رکھا گیا۔اللہ تعالیٰ آپ مَظْهَرَ هَاتَيْنِ الصِّفَتَيْنِ۔فَلِذَالِك سختی کی شان میں فرماتا ہے:۔لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ مُحَمَّدًا وَأَحْمَدَ مِن رَّبّ الْكَوْنَيْنِ وَقَالَ اَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ اللهُ في شَأْيه "لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُ مِن بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ * اس آیت میں اللہ تعالیٰ اَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ نے عَزِيزٌ اور حَرِیض کے الفاظ میں اس طرف اشارہ کیا عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ تَحِدُه ،،، ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے فضل عظیم التوبة : ۱۲۸۔ترجمہ (اے مومنو!) تمہارے پاس تمہاری ہی قوم کا ایک فرد رسول ہو کر آیا ہے۔تمہارا تکلیف میں پڑنا اس پر شاق گزرتا ہے اور وہ تمہارے لیے خیر کا بھوکا ہے اور مومنوں کے ساتھ بہت محبت کرنے والا اور کرم کرنے والا ہے۔* -