تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 50

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة فَهِيَ فَيْضٌ اَخَصُّ مِنْ فُيُوْضِ الصَّفَةِ صفتِ رحمانیت کے فیوض سے خاص تر ہے۔یہ فیضان الرَّحْمَانِيَّةِ وَ مَخصوصةٌ بِتَكْبِيْلِ التَّوْعِ نوع انسانی کی تکمیل اور انسانی فطرت کو کمال تک پہنچانے الْبَشَرِي وَ اِكْمَالِ الْخِلْقَةِ الْإِنْسَانِيَّةِ کے لئے مخصوص ہے لیکن اس کے حاصل کرنے کے لئے وَلكِن بِشَرْطِ السَّعي وَ الْعَمَلِ الصَّالح کوشش کرنا عمل صالح بجالانا اور جذبات نفسانیہ کو ترک وَتَرْكِ الْجَذَبَاتِ النَّفْسَانِيَّةِ بَل لا تنزل کرنا شرط ہے۔یہ رحمت پورے طور پر نازل نہیں ہوتی هذِهِ الرَّحْمَةُ حَقَّ نُزُولِهَا إِلَّا بَعْدَ الْجَهْدِ جب تک اعمال بجالانے میں پوری کوشش نہ کی جائے الْبَلِيغِ فِي الْأَعْمَالِ وَبَعْدَ تَزْكِيَةِ النَّفْسِ اور جب تک تزکیہ نفس نہ ہو اور ریا کوگلی طور پر ترک وَتَكْمِيْلِ الْإِخْلَاصِ بِاخْرَاجِ بَقَايَا الرِّيَاءِ کر کے خلوص کامل اور طہارت قلب حاصل نہ ہو اور جب وَتَطْهِيرِ الْبَالِ وَبَعْدَ ايْقَارِ الْمَوْتِ تک خدائے ذوالجلال کی خوشنودی حاصل کرنے کی لِابْتِغَاءِ مَرَضَاتِ اللهِ ذِي الْجَلَالِ فَطوبى خاطر موت کو قبول نہ کر لیا جائے۔پس مبارک ہیں وہ لِمَنْ أَصَابَهُ حَظِّ مِنْ هَذِهِ النِّعَمِ بَلْ هُوَ لوگ جنہیں ان نعمتوں سے حصہ ملا۔بلکہ وہی اصل انسان الْإِنْسَانُ وَغَيْرُهُ كَالنَّعَمِ ہیں اور باقی لوگ تو چار پائیوں کی مانند ہیں۔وَهُهُنَا سُوَالٌ عُضَالٌ نَكْتُبُهُ في یہاں ایک مشکل سوال ہے جسے ہم اس جگہ مع جواب الْكِتَابِ مَعَ الْجَوَابِ لِيُفَكِّرَ فِيْهِ مَنْ كَانَ لکھتے ہیں تا کہ عقلمند اس میں غور و فکر کر سکیں اور وہ سوال یہ مِنْ أُولِي الْأَلْبَابِ وَهُوَ أَنَّ اللهَ اخْتَارَ مِنْ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ میں جَمِيعِ صِفَاتِهِ صِفَتَي الرَّحْمَانِ وَ الرَّحِيمِ اپنی تمام صفات میں سے صرف دوصفات الر حمن اور فِي الْبَسْمَلَةِ وَمَا ذَكَرَ صِفَةً أُخْرَى فِي هَذِهِ الرَّحِيم کو ہی اختیار کیا ہے اور کسی اور صفت کا اس الْآيَةِ مَعَ أَنَّ اسْمَهُ الْأَعْظَمَ يَسْتَحِقُ جَمِيعَ آیت میں ذکر نہیں کیا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم (یعنی مَا هُوَ مِنَ الصَّفَاتِ الْعَامِلَةِ كَمَا هِيَ الله ) تمام ان صفات کا ملہ کا مستحق ہے جو مقدس صحیفوں مل كورةٌ في الصُّحُفِ الْمُطَهَّرَةِ ثُمَّ اِن میں مذکور ہیں۔پھر کثرت صفات تلاوت کے وقت كفرَة الصَّفَاتِ تَسْتَلْزِمُ كَثرة البرکات کثرت برکات کو مستلزم ہے۔پس بسم اللہ کی آیت کریمہ عِنْدَ التَّلَاوَةِ فَالْبَسْمَلَهُ أَحَقُ وَ أَوْلى اللہ کی کثرت صفات کے بیان کے مقام اور مرتبہ کی زیادہ بِهَذَا الْمَقَامِ وَالْمَرْتَبَةِ۔وَقَد نُرِبَ لَهَا | حقدار اور سزاوار ہے اور حدیث نبوی میں ہرا ہم کام