تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 49
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام كُلّ شَيْءٍ ۴۹ سورة الفاتحة أَثَارِ وُجُودِ الْإِنْسَانِ وَالْحَيَوَانِ وَ إِنْ كَانَ وجود میں آنے سے پہلے ہی پائے جاتے ہیں اگر چہ یہ فیض سَارِيا فى جميع مَرَاتِبِ الْوُجُودِ وَالزَّمَانِ تمام مراتب وجود اور زمان و مکان اور حالت طاعت و عصیان وَالْمَكَانِ وَالطَّاعَةِ وَالْعِصْيَانِ أَلا ترى میں جاری و ساری رہتا ہے۔کیا آپ نہیں دیکھتے کہ أَنَّ رَحْمَانِيَّةَ اللهِ تَعَالَى وَسِعَت الصَّالِحِين خدا تعالیٰ کی رحمانیت نیکو کاروں اور ظالموں سب پر وَالظَّالِمِينَ۔وَتَرَى قَتَرَهُ وَشَمْسَهُ يَطلُعان وسیع ہے اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کا چاند اور اس کا عَلَى الطَّائِعِينَ وَالْعَاصِينَ۔وَإِنَّهُ أَعْطى سورج اطاعت گزاروں اور نافرمانوں کبھی پر چڑھتا ہے۔خَلْقَهُ وَ كَفَّلَ أَمْرَ كُلِّهِمْ اور خدا تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کے مناسب حال قومی کے أَجْمَعِينَ وَمَا مِن دَآبَةٍ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا ساتھ پیدا کیا ہے اور اس نے ان سب کے معاملات کا وَلَوْ كَانَ فِي السَّمَوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِينَ وَ ذمہ لیا ہے اور کوئی بھی جاندار نہیں مگر اس کا رزق اللہ کے إِنَّهُ خَلَقَ لَهُمُ الْأَشْجَارَ وَأَخْرَجَ مِنْهَا ذمہ ہے خواہ وہ آسمانوں میں ہو یا زمین میں۔اُسی نے ان العمارَ وَالزَّهْرَ وَ الرَّيَاحِينَ وَ إِنَّهَا رَحْمَةٌ کے لئے درخت پیدا کئے اور ان درختوں سے پھل پھول هَيَّأَهَا اللهُ لِلنُّفُوسِ قَبْلَ أَن تَبْرَأَهَا وَإِنَّ اور خوشبوئیں پیدا کیں اور یہ ایسی رحمت ہے جسے اللہ تعالیٰ فِيْهَا تَذْكِرَةٌ لِلْمُتَّقِينَ۔وَ قَدْ أُعْطِي هَذِهِ نے انسانوں کی پیدائش سے پہلے ہی ان کے لئے مہیا فرمایا۔النِّعَمُ مِنْ غَيْرِ الْعَمَلِ وَ مِنْ غَيْرِ اس میں متقیوں کے لئے نصیحت اور یاد دہانی ہے۔یہ نعمتیں الْإِسْتِحْقَاقِ مِنَ اللهِ الرَّاحِم الخلاق بغیر کسی عمل اور بغیر کسی حق کے اس بے حد مہربان اور عظیم وَمِنْهَا نَعْمَاءُ أُخْرَى مِنْ حَضْرَةِ الْكِبْرِيَاءِ خالقِ عالم کی طرف سے عطا ہوئی ہیں۔اور اس عالی بارگاہ وَهِيَ خَارِجَةٌ مِّنَ الْإِحْصَاءِ - كَمِثْلِ خَلْقِ سے ایسی ہی اور بھی بہت سی نعمتیں بخشی گئی ہیں جو شمار سے أَسْبَابِ الصَّحَةِ وَ أَنْوَاعِ الْحَيَلِ وَ الدَّوَاءِ باہر ہیں۔مثلاً صحت قائم رکھنے کے ذرائع پیدا کرنا اور ہر لِكُلِ نَوع مِنَ الدَّاءِ۔وَإِرْسَالِ الرُّسُلِ بیماری کے لئے علاج اور دواؤں کا پیدا کرنا۔رسولوں کا وَإِنْزَالِ الْكُتُبِ عَلى الأَنْبِيَاءِ۔وهذه مبعوث کرنا اور انبیاء پر کتابوں کا نازل کرنا یہ سب كُلُهَا رَحْمَانِيَّةٌ مِنْ رَّبِّنَا أَرْحَمُ الرُّحَمَاء ہمارے رب ارحم الراحمین کی رحمانیت ہے۔یہ خالص فضل وَفَضْلُ بَحْتُ لَّيْسَ مِنْ عَمَلِ عَامِلٍ وَلَا ہے جو کسی کام کرنے والے کے کام یا گریہ وزاری یا دُعا من التطرُعِ وَالدُّعَاءِ وَأَمَّا الرَّحِيْمِيَّةُ کے نتیجہ میں نہیں ہے۔لیکن رحیمیت وہ فیض الہی ہے جو وہ