تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 21
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱ سورة الفاتحة مانتے ہیں کہ پر میشر سے ہی سب کچھ نکلا ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ خدا کا فضل کوئی چیز نہیں وہ کرموں کا ہی پھل دی ہے۔یہاں تک کہ اگر کوئی مرد بنا ہے تو وہ بھی اپنے اعمال سے اور اگر کوئی عورت بنی ہے تو وہ بھی اپنے اعمال سے اور اگر ضروری اشیاء حیوانات نباتات وغیرہ بنے ہیں تو وہ بھی اپنے اپنے کرموں کی وجہ سے۔الغرض یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمن سے منکر ہیں۔وہ خدا جس نے زمین سورج ، چاند ستارے وغیرہ پیدا کئے اور ہوا پیدا کی تا کہ ہم سانس لے سکیں اور ایک دوسرے کی آواز سن سکیں اور روشنی کے لیے سورج چاند وغیرہ اشیاء پیدا کیں اور اس وقت پیدا کیں جب کہ ابھی سانس لینے والوں کا وجود اور نام ونشان بھی نہ تھا۔تو کیا کوئی کہ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے ہی اعمال کی وجہ سے پیدا کیا گیا ہے؟ کیا کوئی اپنے اعمال کا دم مارسکتا ہے؟ کیا کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ یہ سورج چاند ستارے ہوا وغیرہ میرے اپنے عملوں کا پھل ہے؟ غرض خدا کی صفت رحمانیت اس فرقہ کی تردید کرتی ہے جو خدا کو بلا مبادلہ یعنی بغیر ہماری کسی محنت اور کوشش کے بعض اشیاء کے عنایت کرنے والا نہیں مانتے۔اعمال اور مجاہدات کی ضرورت اس کے بعد خدا تعالیٰ کی صفت الرحیم کا بیان ہے یعنی محنتوں کوششوں اور اعمال پر ثمرات حسنہ مرتب کرنے والا۔یہ صفت اس فرقہ کو رڈ کرتی ہے جو اعمال کا بالکل لغو خیال کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ میاں نماز کیا تو روزے کیا ؟ اگر غَفُورُ الرَّحِیم نے اپنا فضل کیا تو بہشت میں جائیں گے نہیں تو جہنم میں اور کبھی کبھی یہ لوگ اس قسم کی باتیں بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ میاں عبادتاں کر کے ولی تو ہم نے کچھ تھوڑا ہی بننا ہے۔کچھ کہتا کیتا نہ کیتا نہ سہی۔الغرض الرحیم کہہ کر خدا ایسے ہی لوگوں کا رد کرتا ہے اور بتایا ہے کہ جو محنت کرتا ہے اور خدا کے عشق اور محبت میں محو ہو جاتا ہے وہ دوسروں سے ممتاز اور خدا کا منظورنظر ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی خود دستگیری کرتا ہے جیسے فرمایا۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت :٧٠) یعنی جو لوگ ہماری خاطر مجاہدات کرتے ہیں آخر ہم ان کو اپنا راستہ دکھا دیتے ہیں۔جتنے اولیاء اور انبیاء اور بزرگ لوگ گزرے ہیں انہوں نے خدا کی راہ میں جب بڑے بڑے مجاہدات کئے تو آخر خدا نے اپنے دروازے ان پر کھول دیئے۔لیکن وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی اس صفت کو نہیں مانتے۔عموماً انکا یہی مقولہ ہوتا ہے کہ میاں ہماری کوششوں میں کیا پڑا ہے جو کچھ تقدیر میں پہلے روز سے لکھا ہے وہ تو ہو کر