تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 20
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة سورۃ فاتحہ تواتر کے نیچے ہے قرآن شریف کا تو ایک نکتہ نکتہ تواتر کے نیچے ہے مگر سورۃ فاتحہ بہت ہی بڑے تواتر سے ثابت ہے۔ہر روز ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے۔سورۃ فاتحہ میں منطقی رنگ منطقی لوگ تعریف کرتے وقت فصل جنس وغیرہ تقسیم کیا کرتے ہیں جیسے کہتے ہیں الْإِنْسَانُ حَيَوَانُ ناطق سورۃ فاتحہ میں یہ رنگ بھی موجود ہے۔الحمدُ للہ کہا۔پھر اس کے آگے رَبِّ الْعلمين اس کی فصل واقع ہوئی الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ ـ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ اس کی حد ہوگئی۔اس سے بڑھ کر اور کوئی تعریف نہیں ہے۔۔! الکام جلد ۵ نمبر ۵ مؤرخہ ۱۰ر فروری ۱۹۰۱ صفحه ۱۲) سورہ فاتحہ کی فضیلت سورہ فاتحہ میں جو پنج وقت ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے اشارہ کے طور پر کل عقائد کا ذکر ہے جیسے فرما يا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعلميین یعنی ساری خوبیاں اس خدا کے لئے سزاوار ہیں جو سارے جہانوں کو پیدا کرنے والا ہے۔الرحمن وہ بغیر اعمال کے پیدا کرنے والا ہے اور بغیر کسی عمل کے عنایت کرنے والا ہے۔الرحيم اعمال کا پھل دینے والا ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ جزا سزا کے دن کا مالک۔ان چار صفتوں میں کل دنیا کے فرقوں کا بیان کیا گیا ہے۔آریوں کا رڈ بعض لوگ اس بات سے منکر ہیں کہ خدا ہی تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جیو یعنی ارواح اور پر مانو یعنی ذرات خود بخود ہیں اور جیسے پر میشر آپ ہی آپ چلا آتا ہے ویسے ہی وہ بھی آپ ہی آپ چلے آتے ہیں اور ارواح اور اُن کی کل طاقتیں، گن اور خواص جن پر دفتروں کے دفتر لکھے گئے خود بخود ہیں اور باوجود اس کے کہ ان میں قوت اتصال اور قوت انفصال خود بخود پائی جاتی ہے وہ آپس میں میل ملاپ کرنے کے لئے ایک پر میشر کے محتاج ہیں۔غرض یہ وہ فرقہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے رب العلمین کہہ کر اشارہ کیا ہے۔سناتن دھرم کے عقائد کی تردید دوسرا فرقہ وہ ہے جس کی طرف الر حمن کے لفظ میں اشارہ ہے اور یہ فرقہ سناتن دھرم والوں کا ہے گو وہ