تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 410
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۰ سورة الفاتحة عبادت اور ہر یک اس کے مطلوب میں ہوتی ہے جس پر اس کی دنیا اور آخرت کی صلاحیت موقوف ہے یہ اس کے کسی عمل کا پاداش نہیں بلکہ محض صفت رحمانیت کا اثر ہے۔پس استعانت کو صفت رحمانیت سے بشدت مناسبت ہے۔اور رحیم کے مقابلہ پر اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ لکھا کیونکہ دعا ایک مجاہدہ اور کوشش ہے اور کوششوں پر جو شمرہ مترتب ہوتا ہے وہ صفت رحیمیت کا اثر ہے۔اور ملكِ يَوْمِ الدِّينِ کے مقابلہ پر صِرَاط الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ لکھا۔کیونکہ امر مجازات ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ کے متعلق ہے۔سو ایسا فقرہ جس میں طلب انعام اور عذاب سے بچنے کی درخواست ہے اسی کے نیچے رکھنا موزوں ہے۔چوتھا لطیفہ یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ مجمل طور پر تمام مقاصد قرآن شریف پر مشتمل ہے گویا یہ سورۃ مقاصد قرآنیہ کا ایک ایجاز لطیف ہے۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے۔وَلَقَد أَتَيْنَكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ (الحجر : ۸۸) یعنی ہم نے تجھے اے رسول سات آیتیں سورۃ فاتحہ کی عطا کی ہیں جو مجمل طور پر تمام مقاصد قرآنیہ پر مشتمل ہیں اور ان کے مقابلہ پر قرآن عظیم بھی عطا فرمایا ہے جو مفصل طور پر مقاصد دینیہ کو ظاہر کرتا ہے اور اسی جہت سے اس سورۃ کا نام ام الکتاب اور سورۃ الجامع ہے۔ام الکتاب اس جہت سے کہ جمیع مقاصد قرآنیہ اُس سے مستخرج ہوتے ہیں اور سورۃ الجامع اس جہت سے کہ علوم قرآنیہ کے جمیع انواع پر بصورت اجمالی مشتمل ہے۔اسی جہت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ جس نے سورۃ فاتحہ کو پڑھا گویا اس نے سارے قرآن کو پڑھ لیا۔غرض قرآن شریف اور احادیث نبوی سے ثابت ہے کہ سورۃ فاتحہ مدوحہ ایک آئینہ قرآن نما ہے۔اس کی تصریح یہ ہے کہ قرآن شریف کے مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ وہ تمام محامد کاملہ باری تعالیٰ کو بیان کرتا ہے اور اُس کی ذات کے لئے جو کمال تام حاصل ہے اس کو بوضاحت بیان فرماتا ہے۔سو یہ مقصد الْحَمدُ لِلہ میں بطور اجمال آ گیا۔کیونکہ اُس کے یہ معنے ہیں کہ تمام محامد کاملہ اللہ کے لئے ثابت ہیں جو مجمع جمیع کمالات اور مستحق جميع عبادات ہے۔دوسرا مقصد قرآن شریف کا یہ ہے کہ وہ خدا کا صانع کامل ہونا اور خالق العالمین ہونا ظاہر کرتا ہے اور عالم کے ابتدا کا حال بیان فرماتا ہے اور جو دائرہ عالم میں داخل ہو چکا اس کو مخلوق ٹھہراتا ہے اور ان امور کے جو لوگ مخالف ہیں ان کا کذب ثابت کرتا ہے۔سو یہ مقصد رب العلمین میں بطور اجمال آ گیا۔تیسرا مقصد قرآن شریف کا خدا کا فیضان بلا استحقاق ثابت کرنا اور اُس کی رحمتِ عامہ کا بیان کرنا ہے۔سو یہ مقصد لفظ رحمان میں بطور اجمال آ گیا۔