تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 372

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۲ سورة الفاتحة جو مسلوب الایمان ہو جائے ایسا الزام نہیں دے سکتا اگر ان میں ایمان نہیں تو کیا شرافت بھی جاتی رہی۔اللہ تعالیٰ تو خوب جانتا تھا کہ ایسا فرقہ ہونے والا ہے۔جو مسیح کی تکفیر اپنا ایمان سمجھے گا۔اسی لئے اس دعا میں اس راہ سے بچنے کے لئے دعا سکھلائی۔( بدر جلدے نمبر ا مؤرخہ ۹/جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۷) ولا الضالين ان کی راہ سے بچا جو گمراہ ہوئے یعنی سچی راہ کو چھوڑ دیا۔اس راہ کو جس کی تعلیم انجیل میں ملی تھی کہ خدا کو واحد جانو۔یہ تعلیم بالکل چھوڑ دی۔دیکھو ان کو بتلایا گیا تھا کہ وہ خدا معبود ہے۔جو حضرت عیسی کا بھی خدا ہے مگر اب یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کہتے ہیں اور یہ کہ وہی جزا سزا کے مالک ہیں۔( بدر جلدے نمبر ا مؤرخہ ۹ جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ ۷) یہ نہ سمجھو کہ مغضوب علیہم ذرا سخت ہے۔اور ضالین نرم۔یہ بات نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ یہودی لوگوں کا ان ضالین سے تھوڑا گناہ تھاوہ تو رات کے پابند تھے۔ہم نے ایک یہودی سے اس کے مذہب کی نسبت پوچھا تو اس نے کہا۔ہمارا خدا کی نسبت وہی عقیدہ ہے جو قرآن میں ہے۔ہم نے اب تک کسی انسان کو خدا نہیں بنایا۔اس اعتبار سے تو یہ ضالین سے اچھے ہیں مگر شوخی شرارت میں ضالین سے بڑھ کر ہیں۔پس اس لئے کہ انہیں دنیا میں سزا ملی ان کا ذکر پہلے آیا۔ایک تحصیلدار کے پاس مقدمہ ہو اور اس نے اسے کچھ تھوڑا جرمانہ یا قید کرنا ہو تو سزا دے گا۔اور اگر اس کی سزا اس کے اختیارات سے باہر ہو تو کسی دوسری عدالت کے سپرد کرتا ہے۔یہودیوں کے اعمال ایسے تھے۔کہ ان کی سزا اس دنیا میں بھی ہو سکتی تھی۔مگر ضالین کا گناہ ان سے زیادہ ہے کہ مخلوق کو خدا بنالیا پس یہ آگے چل کر سزا پائیں گے یہ ایسے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تكَادُ السَّمُوتُ يَتَفَطَرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَنَّا (مريم :۹۱) یعنی قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائے زمین شق ہو اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاویں۔یہودیوں کے بارے میں یہ نہ فرمایا۔معمولی گناہ تھا۔یہیں سزا دیدی اور ضالین کی سز ا سخت ہے اور سزا میں تفاوت ضرور ہوا کرتا ہے۔ایک چور معمولی ہو تو اس کی سزا اور ہے اور ایک عادی مجرم چوروں کا استاد ہو تو اس کی اور۔پادریوں نے اپنے بد عقیدے کو یہاں تک پھیلایا ہے کہ بعض اوقات ایک ایک پرچہ پچاس پچاس ہزار نکلتا ہے ایک ایسے مذہب کی تائید کے لئے جس کی بناحق کے نہایت خلاف اور ہر طرح سے مضر ہے۔( بدر جلدے نمبر ا مؤرخہ ۹/جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۸،۷) سورہ فاتحہ جس کو ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھتے ہیں اس سورۃ میں تین گذشتہ فرقے پیش کئے ہیں ایک وہ جو اَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ کے مصداق ہیں دوسرے مغضوب تیسرے ضالین۔