تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 371
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة دعوی کرے گا اور نبوت کا بھی۔اور اس کے ماتھے پر کا فرلکھا ہوا ہوگا اور اس کا ایک گدھا ہوگا۔جس کے کانوں میں اس قدر فاصلہ ہوگا اور اس میں یہ یہ باتیں ہوں گی۔اس لئے خدا فرماتا ہے کہ وہ دجالی گروہ ضالین کا ہی ہے جو طرح طرح کے پیرایوں میں لوگوں کو گمراہ کرتے پھرتے ہیں اور بڑے بڑے وعدے دے دے کر خدا تعالیٰ کی کتابوں میں تحریف تبدیل کرتے ہیں۔اور لوگوں کو خدا تعالیٰ کے حکموں سے بالکل روگردان کر رہے ہیں یہاں تک کہ سور جیسی گندی چیز کو بھی حلال خیال کر رہے ہیں حالانکہ توریت میں سور خاص طور پر حرام کیا گیا ہے اور خود مسیح نے بھی کہا ہے کہ سوروں کے آگے موتی مت ڈالو۔اور ایسا ہی کفارہ جیسا گندہ مسئلہ ایجاد کر کے انہوں نے گناہوں کے لئے ایک وسیع میدان تیار کر دیا ہے۔خواہ انسان کیسے ہی کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو مگر یسوع کو خدا یا خدا کا بیٹا سمجھنے سے وہ سب عیب جاتے رہیں گے۔اور انسان نجات پا جائے گا اب بتلاؤ کیا یہ صاف سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ وہی گمراہ کرنے والا گروہ ہے جس کو احادیث میں دجال اور قرآن کریم میں ضالین کر کے پکارا گیا ہے۔(الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳ مؤرخہ ۱۰رجنوری ۱۹۰۸ صفحه ۲) قرآن نے اپنے اول میں بھی مغضوب علیہم اور ضالین کا ذکر فرمایا ہے اور اپنے آخر میں بھی جيسا كہ آيت لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولّد بصراحت اس پر دلالت کر رہی ہے اور یہ تمام اہتمام تاکید کے لئے کیا گیا اور نیز اس لئے کہ تاسیح موعود اور غلبہ نصرانیت کی پیشگوئی نظری نہ رہے اور آفتاب کی طرح چمک اُٹھے۔(تحفہ گولڑو یہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۲۲) اگر یہ اعتراض ہے کہ اب تو انبیاء کا سلسلہ بند ہو گیا اب کیوں ہمیں مغضوب علیہم بنایا جاتا ہے جب اس اُمت کے لئے خاتمہ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی جانتا تھا کہ اس قوم میں بھی کئی یہودیوں کا رنگ دکھلائیں گے۔وہ یہودی عیسی کو سولی دینا چاہتے تھے اسی طرح حدیث صحیح میں ہے کہ آخر یہ بھی یہودی ہوں گے اور خدا کی طرف سے جو آئے گا اس کی تکذیب کریں گے اور اس کے قتل کے منصوبے کرنا داخل ثواب سمجھیں گے۔خدا کی باتیں بے معنی نہیں۔یہ عذاب کے دن ہیں یا نہیں ؟ پچیس برس سے صبر کیا ان لوگوں نے تو اپنی طرف سے کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا۔میں نے ان کے کفر ناموں میں دیکھا کہ لکھتے ہیں اس کا کفر یہود و نصاری کے کفر سے بڑھ کر ہے۔تعجب کی بات ہے کہ جولوگ کلمہ پڑھتے ہیں۔قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام تعظیم سے لیتے ہیں۔جان تک فدا کرنے کو حاضر ہیں۔کیا وہ ان سے بدتر ہیں جو ہر وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے رہتے ہیں۔بجز اس کے