تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 361 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 361

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۱ سورة الفاتحة پورے ہو گئے اس طرح گمراہ ہو گئے اور افراط تفریط میں پڑ گئے اور کلام مجید ان دونوں کو نقطہ اعتدال پر قائم کرتا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۳ مؤرخہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۴) کلام اللہ میں مَغْضُوبِ عَلَيْهِم نام یہودیوں کا ہے جنہوں نے صرف ظاہر پرستی شروع کر کے باطن کا انکار کیا اور لا الضالین نام نصاری کا ہے جنہوں نے ظاہر کا انکار کیا اور گمراہ ہو گئے کیونکہ ظاہر نمونہ اور چراغ ہے واسطے باطن کے۔جو کوئی نمونہ چھوڑ دے وہ گمراہ ہو جاتا ہے سوسورہ فاتحہ میں یہی ظاہر ظاہرا فراط اور تفریط ان دونوں فرقوں کی طرف اشارہ ہوا ہے جو آیا ہے۔غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ الحکم جلدے نمبر ۳ مؤرخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۴) سورہ فاتحہ میں بار بار غور کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ مفسرین کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد یہودی مولوی اور ضالین سے مراد نصاریٰ مولوی ہیں ان دونوں کا اکٹھا ذکر کرنے سے صریح اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی نہ کوئی شخص بروزی رنگ میں آنے والا ہے غیر المغضوب وہ لوگ تھے جو سیخ سے غیر سرکش ہوئے اور ضالین وہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سرکش ہوئے پس اس لئے اس آنے والے میں دونوں رنگ ہوئے۔امت محمدیہ کو جو یہ دعا تعلیم کی تو معلوم ہوا کہ ان کے لئے یہ واقعہ پیش آنے والا ہے اور اس لئے یہ مقام جمع کر دیئے کہ وہ دونوں رنگ اپنے اندر رکھے گا۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۷ مؤرخہ ۱۵ مئی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۳۱) البدر جلد ۲ نمبر ۳۳ مورخه ۴ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۵۸) جیسے شیشہ میں انسان کی شکل نظر آتی ہے حالانکہ وہ شکل بذات خود الگ قائم ہوتی ہے اس کا نام بروز ہے۔اس کا سر سورہ فاتحہ میں ہی ہے جیسے کہ لکھا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ تمام مفسروں نے مغضوب سے مراد یہود اور ضالین سے مراد نصاری لئے ہیں۔سورہ فاتحہ میں پہلے حسن و احسان ہی کو دکھایا ہے اور اگر ان سے انسان اس کی طرف رجوع نہیں کرتا تو پھر تیسری صورت غضب کی بھی ہے اس لئے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کہ کر ڈرایا ہے لیکن مبارک وہی شخص ہے جو اس کے حسن اور احسان سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔اور اُس کے احکام کی پیروی کرتا ہے اس سے خدا قریب ہو جاتا ہے اور دعاؤں کو سنتا ہے۔(الحکم جلدے نمبر ۱۲ مؤرخہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۳) غَيْرِ الْمَغْضُوبِ سے مفترین یہود مراد لیتے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ جو بد اعمالی کرے گا پکڑا جائے گا اور خدا کے غضب میں آئے گا۔اس میں یہود کی تخصیص نہیں۔( بدر جلدے نمبر امؤرخہ ۹رجنوری۱۹۰۸ صفحہ ۷)