تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 360

سورة الفاتحة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام قوت غضی کو استعمال کر کے قومی سبعیہ کی پیروی کرتے ہیں اور ضالین سے وہ مراد ہیں جو قوی بہیمیہ کی پیروی کرتے ہیں۔اور میانہ طریق وہ ہے جس کو لفظ انْعَمتَ عَلَيْهِم سے یاد فرمایا ہے۔غرض اس مبارک اُمت کے لئے قرآن شریف میں وسط کی ہدایت ہے۔توریت میں خدائے تعالیٰ نے انتظامی امور پر زور دیا تھا اور انجیل میں عفو اور درگزریر زور دیا تھا اور اس اُمت کو موقع شناسی اور وسط کی تعلیم ملی۔) اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۷) مغضوب قوت سبھی کے نیچے ہے۔یہود اس قوت کے ماتحت اور مغلوب رہے اور عیسائی قوت واہمہ کے نیچے۔شرک اسی قوت واہمہ سے پیدا ہوتا ہے قوت سبھی والا تو افراط سے کام لیتا ہے کہ جہاں ڈرنے کا حق ہے وہاں بھی نہیں ڈرتا۔اور قوت واہمہ کا مغلوب رشی کو سانپ سمجھ کر اس سے بھی ڈر جاتا ہے۔پس عیسائی تو اس قدر گرے کہ انہوں نے ایک مردہ انسان کو خدا بنا لیا اور یہودی اتنے بڑھے کہ انہوں نے سرے ہی سے انکار کر دیا۔اللہ تعالی نے قرآن شریف میں تین قوموں کا ذکر کیا ہے اور تین ہی قسم کے لوگ رکھے بھی ہیں۔اول وہ جو اعتدال سے کام لینے والے ہیں یہ منعم علیہ گروہ ہوتا ہے ان کی راہ صراط مستقیم ہے۔دوم افراط والی قوم اس کا نام مغضوب ہے۔سوم تفریط سے کام لینے والے یہ ضالین ہیں۔مغضوب کا لفظ بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی پر غضب نہیں کرتا بلکہ خود انسان اپنے افعال بد سے اس غضب کو بھینچ لیتا ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۵ مؤرخه ۱۰ فروری ۱۹۰۱ء صفحه ۱۲) قرآن شریف میں وَلَا الضَّالین تو کہا اگر دجال کوئی الگ چیز تھی تو چاہئے تھا ولا الدجال بھی کہا ہوتا۔غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ اور وَلَا الضَّالین کے متعلق تمام مفتر متفق ہیں کہ ان سے یہودی اور عیسائی مراد ہیں جب پانچ وقت نمازوں میں ان فتنوں سے بچنے کے لئے دعا تعلیم کی گئی ہے کہ الضالین سے نہ کرنا اور نہ مغضوب قوم میں سے بنانا تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ سب سے بڑا اور اہم فتنہ یہی تھا۔جو انھر الفتن کہنا الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مؤرخه ۳۱/اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۲) چاہئے۔۔، مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ سے مراد یہود ہیں اور ضالین سے مراد نصاریٰ ہیں یہود نے اتنی ظاہر پرستی کی کہ باطنی احکام کا کچھ لحاظ نہ کیا اور نصاریٰ نے اتنی باطن پرستی کہ ظاہری احکام کا کچھ لحاظ نہ رکھا اور احکام الہی کو جو چراغ اور حقیقت نما تھے فضول سمجھ کر ترک کر دیا اور ہر ایک کے باطنی معنی کر لئے اور سمجھ لیا کہ میسیج میں وہ سب