تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 352
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۲ سورة الفاتحة نسبت بار بار ذکر ہوا کہ اخیر تک اس کی عظمت قائم رکھے گا سورۃ فاتحہ میں بھی اس کا ذکر ہے جب کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فرمایا۔مغضوب سے مراد یہودی ہیں۔اب قابل غور یہ امر ہے کہ یہودی کیسے مغضوب ہوئے۔انہوں نے پیغمبروں کو نہ مانا اور حضرت عیسی کا انکار کیا تو ضرور تھا کہ اس اُمت میں بھی کوئی زمانہ ایسا ہوتا اور ایک مسیح آتا جس سے یہ لوگ انکار کرتے اور وہ مماثلت پوری ہوتی۔ورنہ کوئی ہم کو بتائے کہ اگر اسلام پر ایسا زمانہ کوئی آنے والا ہی نہ تھا اور نہ کوئی مسیح آنا تھا پھر اس دُعائے فاتحہ کی تعلیم کا کیا فائدہ تھا۔الحکم جلدے نمبر ۳ مؤرخہ ۲۴ /جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۹) کتاب اللہ کو کھول کر دیکھ لو وہ فیصلہ کرتی ہے پہلی ہی سورۃ کو پڑھو جو سورہ فاتحہ ہے جس کے بغیر نماز بھی نہیں ہو سکتی دیکھو اس میں کیا تعلیم دی ہے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ - اب صاف ظاہر ہے کہ اس دعا میں مغضوب اور ضالین کی راہ سے بچنے کی دعا ہے۔مغضوب سے بالاتفاق یہودی مراد ہیں اور ضالین سے عیسائی۔اگر اس اُمت میں یہ فتنہ اور فساد پیدا نہ ہونے والا تھا تو پھر اس دُعا کی تعلیم کی کیا غرض تھی؟ سب سے بڑا فتنہ تو الدنجال کا تھا مگر یہ نہیں کہا وَلَا الدنجال کیا خدا تعالیٰ کو اس فتنہ کی خبر نہ تھی ؟ اصل یہ ہے کہ یہ دعا بڑی پیشگوئی اپنے اندر رکھتی ہے ایک وقت اُمت پر ایسا آنے والا تھا کہ یہودیت کا رنگ اس میں آجاوے گا اور یہودی وہ قوم تھی جس نے حضرت مسیح کا انکار کیا تھا۔پس یہاں جو فرمایا کہ یہودیوں سے بچنے کی دعا کرو۔اس کا یہی مطلب ہے کہ تم بھی یہودی نہ بن جانا یعنی مسیح موعود کا انکار نہ کر بیٹھنا اور ضالین یعنی نصاری کی راہ سے بچنے کی دعا جو تعلیم کی تو اس سے معلوم ہوا کہ اُس وقت صلیبی فتنہ خطر ناک ہوگا۔اور یہی سب فتنوں کی جڑ اور ماں ہو گا دجال کا فتنہ اس سے الگ نہ ہوگا۔ورنہ اگر الگ ہوتا تو ضرور تھا کہ اُس کا بھی نام لیا جاتا۔الحاکم جلدے نمبر۷ مؤرخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۲) صرف قرآن کا ترجمہ اصل میں مفید نہیں جب تک اس کے ساتھ تفسیر نہ ہو مثلاً غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ کی نسبت کسی کو کیا سمجھ آ سکتا ہے کہ اس سے مراد یہود نصاری ہیں جب تک کہ کھول کر نہ جتلایا جاوے اور پھر یہ دعا مسلمانوں کو کیوں سکھلائی گئی؟ اس کا یہی منشا تھا کہ جیسے یہودیوں نے حضرت مسیح کا انکار کر کے خدا کا غضب کمایا۔ایسے ہی آخری زمانہ میں اس اُمت نے بھی مسیح موعود کا انکار کر کے خدا کا