تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 340

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۰ سورة الفاتحة ایسے ہیں جو مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ یہود سے مشابہت رکھتے ہیں۔اس کی ایسی مثال ہے جیسے ایک گھر ہے جس میں عمدہ عمدہ آراستہ کمرے موجود ہیں جو عالیشان اور مہذب لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہیں اور جس کے بعض حصے میں پاکخانے بھی ہیں اور بدر رو بھی اور گھر کے مالک نے چاہا کہ اس محل کے مقابل پر ایک اور محل بناوے کہ تا جو جو سامان اس پہلے محل میں تھا اس میں بھی موجود ہو۔سو یہ دوسرا محل اسلام کا محل ہے اور پہلا حمل موسوی سلسلہ کا محل تھا۔یہ دوسرا محل پہلے محل کا کسی بات میں محتاج نہیں۔قرآن شریف توریت کا محتاج نہیں اور یہ اُمت کسی اسرائیلی نبی کی محتاج نہیں۔ہر ایک کامل جو اس اُمت کے لئے آتا ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے پرورش یافتہ ہے اور اس کی وحی محمدی وحی کی ظل ہے۔یہی ایک نکتہ ہے جو سمجھنے کے لائق ہے۔افسوس ! ہمارے مخالف حضرت عیسی کو دوبارہ لاتے ہیں۔نہیں سمجھتے کہ مطلب تو یہ ہے کہ اسلام کو خر مشابہت حاصل ہو نہ یہ ذلت کہ کوئی اسرائیلی نبی آوے تا امت اصلاح پاوے۔(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۳ تا ۱۷) با وجود ان تمام شہادتوں اور معجزات اور زبر دست نشانوں کے مولوی لوگ میری تکذیب کرتے ہیں اور ضرور تھا کہ ایسا ہی کرتے تا پیشگوئی آیت غیر الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی پوری ہو جاتی۔(تذکرۃ الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۷) میں ایک فضل کی طرح اہل حق کے لئے آیا پر مجھ سے ٹھٹھا کیا گیا۔اور مجھے کا فر اور دقبال ٹھہرایا گیا اور بے ایمانوں میں سے مجھے سمجھا گیا۔اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا تا وہ پیشگوئی پوری ہوتی جو آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے اندر مخفی ہے۔کیونکہ خدا نے مُنْعَم عَلَیہم کا وعدہ کر کے اس آیت میں بتادیا ہے کہ اس اُمت میں وہ یہودی بھی ہوں گے جو یہود کے علماء سے مشابہ ہوں گے جنہوں نے حضرت عیسی کو سولی دینا چاہا اور جنہوں نے عیسی کو کافر اور دقبال اور ملحد قرار دیا تھا۔اب سوچو کہ یہ کس بات کی طرف اشارہ تھا۔اسی بات کی طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود اس اُمت میں سے آنے والا ہے اس لئے اس کے زمانہ میں یہود کے رنگ کے لوگ بھی پیدا کئے جائیں گے جو اپنے زعم میں علماء کہلائیں گے۔سو آج تمہارے ملک میں وہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔(تذکرۃ الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۶۵ ،۶۶) تقدیر الہی میں قرار پاچکا تھا کہ ایسے یہودی اس اُمت میں بھی پیدا ہوں گے۔پس اس لئے میرا نام عیسی رکھا گیا جیسا کہ حضرت سیمی کا نام الیاس رکھا گیا تھا۔چنانچہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں اس کی طرف