تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 339

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۹ سورة الفاتحة میں ہی کوئی غضب اُن پر نازل ہوگا کیونکہ آخرت کے غضب میں تو ہر ایک کا فرشریک ہے اور آخرت کے لحاظ سے تمام کا فر مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ہیں پھر کیا وجہ کہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں خاص کر کے اُن یہودیوں کا نام مَغْضُوبِ عَلَیم رکھا جنہوں نے حضرت عیسی کو سولی دینا چاہا تھا بلکہ اپنی دانست میں مولی دے چکے تھے۔پس یادر ہے کہ ان یہودیوں کو مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی خصوصیت اس لئے دی گئی کہ دنیا میں ہی اُن پر غضب الہی نازل ہوا تھا اور اسی بنا پر سورہ فاتحہ میں اس اُمت کو یہ دعا سکھلائی گئی کہ خدایا ایسا کر کہ وہی یہودی ہم نہ بن جائیں۔یہ ایک پیشگوئی تھی جس کا یہ مطلب تھا کہ جب اس اُمت کا مسیح مبعوث ہوگا تو اس کے مقابل پر وہ یہود بھی پیدا ہو جائیں گے جن پر اسی دنیا میں خدا کا غضب نازل ہوگا۔پس اس دُعا کا یہ مطلب تھا کہ یہ مقدر ہے کہ تم میں سے بھی ایک مسیح پیدا ہو گا اور اس کے مقابل پر یہود پیدا ہوں گے جن پر دنیا میں ہی غضب نازل ہوگا۔سو تم دُعا کرتے رہو کہ تم ایسے یہود نہ بن جاؤ۔یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ یوں تو ہر ایک کا فرقیامت میں مور دغضب الہی ہے لیکن اس جگہ غضب سے مراد دنیا کا غضب ہے جو مجرموں کے سزا دینے کے لئے دنیا میں ہی نازل ہوتا ہے اور وہ یہودی۔۔۔۔جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو دُکھ دیا تھا اور بموجب نص قرآن کریم ان کی زبان پر لعنتی کہلائے تھے۔وہ وہی لوگ تھے جن پر دنیا میں ہی عذاب کی مار پڑی تھی یعنی اول سخت طاعون سے وہ ہلاک کئے گئے تھے اور پھر جو باقی رہ گئے تھے وہ طیطوس رومی کے ہاتھ سے سخت عذاب کے ساتھ ملک سے منتشر کئے گئے تھے۔پس غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں یہی عظیم الشان پیشگوئی مخفی ہے کہ وہ لوگ جو مسلمانوں میں سے یہودی کہلائیں گے وہ بھی ایک مسیح کی تکذیب کریں گے جو اُس پہلے مسیح کے رنگ پر آئے گا یعنی نہ وہ جہاد کرے گا اور نہ تلوار اُٹھائے گا بلکہ پاک تعلیم اور آسمانی نشانوں کے ساتھ دین کو پھیلائے گا اور اس آخری مسیح کی تکذیب کے بعد بھی دنیا میں طاعون پھیلے گی اور وہ سب باتیں پوری ہوں گی جو ابتدا سے سب نبی کہتے چلے آئے ہیں۔اور یہ وسوسہ کہ آخری زمانہ میں وہی مسیح ابن مریم دوبارہ دنیا میں آجائے گا۔یہ تو قرآن شریف کے منشاء کے سراسر بر خلاف ہے جو شخص قرآن شریف کو ایک تقوی اور ایمان اور انصاف اور تدبر کی نظر سے دیکھے گا اُس پر روزِ روشن کی طرح کھل جائے گا کہ خدا وند قادر کریم نے اس امت محمدیہ کو موسوی اُمت کے بالکل بالمقابل پیدا کیا ہے۔ان کی اچھی باتوں کے بالمقابل اچھی باتیں دی ہیں اور اُن کی بُری باتوں کے مقابل پر بری باتیں۔اس اُمت میں بعض ایسے ہیں جو انبیاء بنی اسرائیل سے مشابہت رکھتے ہیں اور بعض