تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 336
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۶ سورة الفاتحة جب انسان بدی سے پر ہیز کرتا ہے اور نیکیوں کے لئے اس کا دل تڑپتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی دستگیری کرتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دارالامان میں پہنچادیتا ہے اور فَادْخُلِي فِي عِبَادِی (الفجر :۳۰) کی آواز اسے آ جاتی ہے یعنی تیری جنگ اب ختم ہو چکی ہے اور میرے ساتھ تیری صلح اور آشتی ہو چکی ہے۔اب آمیرے بندوں میں داخل ہو جو صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے مصداق ہیں اور روحانی وراثت سے جن کو حصہ ملتا ہے۔میری بہشت میں داخل ہو جا۔الحکم جلد ۸ نمبر ۲ مؤرخه ۱۷/جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۲) اسی طرح احادیث صحیحہ میں بھی ذکر تھا کہ آخری زمانہ میں اکثر حصہ مسلمانوں کا یہودیوں سے مشابہت پیدا کر لے گا اور سورۃ فاتحہ میں بھی اسی کی طرف اشارہ تھا۔کیونکہ اس میں یہ دعا سکھلائی گئی ہے کہ اے خدا ! ہمیں ایسے یہودی بننے سے محفوظ رکھ جو حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں تھے اور اُن کے مخالف تھے جن پر خدا تعالیٰ کا غضب اسی دنیا میں نازل ہوا تھا اور یہ عادت اللہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ کسی قوم کو کوئی حکم دیتا ہے یا ان کو کوئی دعا سکھلاتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ بعض لوگ ان میں سے اس گناہ کے مرتکب ہوں گے جس سے ان کو منع کیا گیا ہے۔پس چونکہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ سے مراد وہ یہودی ہیں جو ملتِ موسوی کے آخری زمانہ میں یعنی حضرت مسیح کے وقت میں باعث نہ قبول کرنے حضرت مسیح کے مور د غضب الہی ہوئے تھے۔اس لئے اس آیت میں سنت مذکورہ کے لحاظ سے یہ پیشگوئی ہے کہ اُمت محمدیہ کے آخری زمانہ میں بھی اسی اُمت میں سے مسیح موعود ظاہر ہوگا اور بعض مسلمان اس کی مخالفت کر کے ان یہودیوں سے مشابہت پیدا کرلیں گے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھے۔لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۱۵،۲۱۴) خدا نے بعض مسلمانوں کو یہود قرار دیدیا ہے اور صاف اشارہ کر دیا ہے کہ جن بدیوں کے یہود مرتکب ہوئے تھے یعنی علماء اُن کے۔اس اُمت کے علماء بھی انہیں بدیوں کے مرتکب ہوں گے۔اور اسی مفہوم کی طرف آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں بھی اشارہ ہے کیونکہ اس آیت میں باتفاق کل مفترین مغضوب عليهم سے مراد وہ یہود ہیں جن پر حضرت عیسی علیہ السلام کے انکار کی وجہ سے غضب نازل ہوا تھا۔اور احادیث صحیحہ میں مَغْضُوبِ عَلَيْهِم سے مراد وہ یہود ہیں جو مور و تغضب الہی دنیا میں ہی ہوئے تھے۔اور قرآن شریف یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ یہود کو مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ ٹھہرانے کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام کی زبان پر لعنت جاری ہوئی تھی۔پس یقینی اور قطعی طور پر مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد وہ یہود ہیں جنہوں نے