تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 332
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۲ سورة الفاتحة ثَالِثُ ثَلَا ثَةٍ يَعْنِي الثَّالِثَ الَّذِي يُوجَدُ فِيهِ الثَّلَاثَةُ | آخری برگزیدے مراد ہیں جنہوں نے مسیح کی كَمَا هُمْ يَعْتَقِدُونَ۔وَ الْمُرَادُ مِنْ قَوْلِهِ أَنْعَمْتَ تصدیق کی اور اس کے بارہ میں کوئی کوتا ہی نہیں عَلَيْهِم هُمُ النّبِيُّون والأَخْيَارُ الْآخَرُونَ مِنْ بَنی کی اور باتوں سے اس مسیح کے حق میں زیادتی نہیں إسْرَائِيلَ الَّذِيْنَ صَدَّقُوا الْمَسِيحَ وَمَا فَرَّطُوا فِي کی اور اسی طرح مراد لفظ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے أَمْرِهِ وَمَا أَفَرَطُوا بِأَقَاوِيْلَ وَ كَذَالِكَ الْمُرَادُ عیسی مسیح ہے جس پر وہ سلسلہ ختم ہوا اور اس کے عِيسَى الْمَسِيحُ الَّذِي خُتِمَتْ عَلَيْهِ تِلْكَ وجود سے فیض کا چشمہ بند ہو گیا گویا کہ اس کا السّلْسِلَةُ وَانْتَقَلَتِ النُّبُوةُ وَ سُدَّ بِهِ مَجْرَى وجود اس انتقال کے لئے ایک نشانی یا حشر اور الْقَيْضِ كَأَنَّهُ الْعَرِمَةُ، وَ كَأَنَّهُ لِهَذَا الْإِنْتِقَالِ قیامت تھا اور اسی طرح انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے الْعَلَمُ وَالْعَلَامَة أو الحشر وَالْقِيَامَةُ، كَمَا أَنْتُمْ اس امت کے ابدالوں کا سلسلہ مراد ہے جنہوں تَعْلَمُونَ۔وَكَذَالِكَ الْمُرَادُ مِنْ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ فى نے صبح آخرالزمان کی تصدیق کی اور صدق دل هذِهِ الْآيَةِ هُوَ سِلْسِلَةُ أَبْدَالِ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّذِيْنَ سے اس کو قبول کیا یعنی اس مسیح کو جس پر یہ سلسلہ صَدَّقُوا مَسِيحَ آخِرَ الزَّمَانِ، وَ آمَنُوا بِهِ وَقَبِلُوهُ ختم ہوا اور اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے وہی مقصودِ | يصِدقِ القَوِيَّةِ وَالْجَنَانِ أَغْنِى الْمَسِيحَ الَّذى اعظم ہے کیونکہ مقابلہ اسی کا مقتضی ہے اور ترتیر حتِمَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ السّلْسِلَةُ، وَ هُوَ الْمَقْصُودُ کرنے والے اس کا انکار نہیں کر سکتے۔(اور الْأَعْظَمُ مِنْ قَوْلِهِ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ كَمَا تَفْتَعِی پھر جب اس بات کا قطعی، یقینی ، صراحت اور الْمُقَاتِلَةُ وَلَا يُنْكِرُهُ الْمُتَدَبِرُونَ۔فَإِنَّهُ إِذَا عُلِمَ تعیین کے ساتھ علم ہو گیا کہ ) مغضوب علیہم وہی بالقطع وَالْيَقِينِ وَالتَّفريح وَالتَّعْيِينِ أَنَّ سیہودی ہیں جنہوں نے مسیح کو کافر کہا اور اس کو الْمَغْضُوبٌ عَلَيْهِم هُمُ الْيَهُودُ الَّذِينَ كَفَرُوا ملعون جانا جیسا کہ الضَّالِّينَ کا لفظ اس پر الْمَسِيحَ وَحَسِبُوهُ مِنَ الْمَلْعُونِينَ كَمَا يَدُلُّ عَلَيْهِ دلالت کرتا ہے۔اس لئے ترتیب ٹھیک نہیں فَرِيْنَةُ قَوْلِهِ الضَّانِيْنَ فَلَا يَسْتَقِيمُ التَّرْتِيْبُ وَلاَ بیختی اور قرآن کے کلام کا نظام درست نہیں يَحْسُنُ نِظَامُ كَلامِ الرَّحْمنِ إِلَّا بِأَنْ يُغلى من ہوتا سوائے اس کے کہ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ مَسِيحُ آخِرِ الزَّمَانِ فَإِنَّ رِعَايَةَ آخر زمانہ کا مسیح مراد لیا جائے کیونکہ قرآن الْمُقَابَلَةِ مِنْ سُنَنِ الْقُرْآنِ وَمِنْ أَهَةِ أُمُورِ شریف کی عادت ہے کہ مقابلہ کی رعایت رکھتا | و