تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 317 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 317

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۷ انسان بغیر عبادت کچھ چیز نہیں بلکہ جمیع جانوروں سے بدتر ہے اور شر البریہ ہے۔سورة الفاتحة الحکم جلد ۴ نمبر ۲۴ مؤرخه ۳۰/ جون ۱۹۰۰ صفحه ۴) آٹھویں اور نویں اور دسویں صداقت جو سورۃ فاتحہ میں درج ہے۔صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالین ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ ہم کو ان سالکین کا راستہ بتلا جنہوں نے ایسی را ہیں اختیار کیں کہ جن سے اُن پر تیرا انعام وارد ہوا اور ان لوگوں کی راہوں سے بچا جنہوں نے لا پرواہی سے سیدھی راہ پر قدم مارنے کے لئے کوشش نہ کی اور اس باعث سے تیری تائید سے محروم رہ کر گمراہ رہے۔یہ تین صداقتیں ہیں جن کی تفصیل یہ ہے کہ بنی آدم اپنے اقوال اور افعال اور اعمال اور نیات کے رو سے تین قسم کے ہوتے ہیں۔بعض بچے دل سے خدا کے طالب ہوتے ہیں اور صدق اور عاجزی سے خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔پس خدا بھی ان کا طالب ہو جاتا ہے اور رحمت اور انعام کے ساتھ ان پر رجوع کرتا ہے۔اس حالت کا نام انعام الہی ہے۔اسی کی طرف آیت ممدوحہ میں اشارہ فرمایا اور کہا صِرَاطَ الَّذِينَ اَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ یعنی وہ لوگ ایسا صفا اور سیدھا راستہ اختیار کرتے ہیں جس سے فیضانِ رحمت الہی کے مستحق ٹھہر جاتے ہیں اور باعث اس کے کہ ان میں اور خدا میں کوئی حجاب باقی نہیں رہتا اور بالکل رحمت الہی کے محاذی آپڑتے ہیں۔اس جہت سے انوار فیضانِ الہی کے ان پر وارد ہوتے ہیں۔دوسری قسم وہ لوگ ہیں کہ جو دیدہ و دانسته مخالفت کا طریق اختیار کر لیتے ہیں اور دشمنوں کی طرح خدا سے مونہہ پھیر لیتے ہیں سو خدا بھی ان سے منہ پھیر لیتا ہے اور رحمت کے ساتھ ان پر رجوع نہیں کرتا اس کا باعث یہی ہوتا ہے کہ وہ عداوت اور بیزاری اور غضب اور غیظ اور نارضامندی جو خدا کی نسبت ان کے دلوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہے وہی ان میں اور خدا میں حجاب ہو جاتی ہے اس حالت کا نام غضب الہی ہے۔اس کی طرف خدائے تعالیٰ نے اشارہ فرما کر کہا۔غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ تیسری قسم کے وہ لوگ ہیں کہ جو خدا سے لا پرواہ رہتے ہیں اور سعی اور کوشش سے اس کو طلب نہیں کرتے۔خدا بھی اُن کے ساتھ لا پرواہی کرتا ہے اور ان کو اپناراستہ نہیں دکھلاتا۔کیونکہ وہ لوگ راستہ طلب کرنے میں آپ سستی کرتے ہیں۔اور اپنے تئیں اس فیض کے لائق نہیں بناتے کہ جو خدا کے قانون قدیم میں محنت اور کوشش کرنے والوں کے لئے مقرر ہے۔اس حالت کا نام اصلالِ الہی ہے۔جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا نے ان کو گمراہ کیا یعنی جبکہ انہوں نے ہدایت پانے کے طریقوں کو بجد و جہد طلب نہ کیا تو خدا نے یہ پابندی اپنے قانون قدیم کے ان کو ہدایت بھی نہ دی اور اپنی تائید سے محروم رکھا۔اسی کی طرف