تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 311
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣١١ سورة الفاتحة وو رپورٹ جلسه سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۳۹،۳۸) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) جو ہماری راہ میں مجاہدہ کرے گا ہم اس کو اپنی راہیں دکھلا دیں گے۔یہ تو وعدہ ہے اور ادھر یہ دُعا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ سو انسان کو چاہئے کہ اس کو مد نظر رکھ کر نماز میں بالحاح دُعا کرے اور تمنار کھے کہ وہ بھی اُن لوگوں میں سے ہو جاوے جو ترقی اور بصیرت حاصل کر چکے ہیں ایسا نہ ہو کہ اس جہان سے بے بصیرت اور اندھا اُٹھایا جاوے۔خدائے تعالیٰ کا آواز دینا یہی ہے کہ درمیانی حجاب اُٹھ گیا اور بعد نہیں رہا۔یہ متقی کا انتہائی درجہ ہوتا ہے جب وہ اطمینان اور راحت پاتا ہے۔دوسرے مقام پر قرآن شریف نے اس اطمینان کا نام فلاح اور استقامت بھی رکھا ہے اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں اُسی استقامت یا اطمینان یا فلاح کی طرف لطیف اشارہ ہے اور خود مستقیم کا لفظ بتلا رہا ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۱۳۷) ہر قسم کی دعائیں طفیلی ہیں۔اصل دُعائیں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے واسطے کرنی چاہئیں۔باقی دُعائیں خود بخو د قبول ہو جائیں گی۔کیونکہ گناہ کے دور ہونے سے برکات آتی ہیں۔یوں دُعا قبول نہیں ہوتی جو نری دنیا ہی کے واسطے ہو۔اس لئے پہلے خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے واسطے دُعائیں کرے اور وہ سب سے بڑھ كروما اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہے۔جب یہ دُعا کرتا رہے گا تو وہ منعم علیہم کی جماعت میں داخل ہوگا جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی محبت کے دریا میں غرق کر دیا ہے۔ان لوگوں کے زمرہ میں جو منقطعین ہیں داخل ہوکر یہ وہ انعامات الہی حاصل کرے گا جیسی عادت اللہ ان سے جاری ہے۔یہ کبھی کسی نے نہیں سنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک راستباز متقی کو رزق کی مار دے بلکہ وہ تو سات پشت تک بھی رحم کرتا ہے۔قرآن شریف میں خضر و موسیٰ کا قصہ درج ہے کہ انہوں نے ایک خزانہ نکالا اس کی بابت کہا گیا کہ ابُوهُمَا صَالِحًا (الكهف : ۸۳) اس آیت میں ان کے والدین کا ذکر تو ہے لیکن یہ ذکر نہیں کہ وہ لڑکے خود کیسے تھے۔باپ کے طفیل سے اس خزانہ کو محفوظ رکھا تھا اور اس لئے ان پر رحم کیا گیا۔لڑکوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ ستاری سے کام لیا۔توریت اور ساری آسمانی کتابوں سے پایا جاتا ہے کہ خدا تعالی متقی کو ضائع نہیں کرتا اس لئے ایسی دُعائیں کرنی چاہئیں جن سے نفس امارہ نفسِ مطمئنہ ہو جاوے اور اللہ تعالی راضی ہو جاوے پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دُعائیں مانگو کیونکہ اس کے قبول ہونے پر جو یہ خود مانگتا ہے خدا تعالیٰ