تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 310
۳۱۰ سورة الفاتحة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو پہلی دعا سکھلائی ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ہے اگر خدا تعالیٰ کا اصل مقصود زیارت ہوتا تو وہ اِهْدِنَا کی جگہ آرِنَا صُوَرَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلیہم کی دُعا تعلیم فرماتا۔جونہیں کیا گیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی میں دیکھ لو کہ آپ نے بھی یہ خواہش نہیں کی کہ مجھے ابراہیم علیہ السلام کی زیارت ہو جاوے۔گو آپ کو معراج میں سب کی زیارت بھی ہو گئی۔پس یہ امر مقصود بالذات ہر گز نہیں ہونا چاہئے اصل مقصد کچی اتباع ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مؤرخه ۱۷ اگست ۱۹۰۲ء صفحه ۸،۷) اپنا مدعا اور مقصود ہمیشہ یہ ہونا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق تزکیہ نفس حاصل ہو اور اس کی مرضی کے موافق تقوی حاصل ہو اور کچھ ایسے اعمال حسنہ میتر آجاویں کہ وہ راضی ہو جائے۔پس جس وقت وہ راضی ہوگا تب اُس وقت ایسے شخص کو اپنے مکالمات سے مشرف کرنا اگر اس کی حکمت اور مصلحت تقاضا کرے گی تو وہ خود عطا کر دے گا اصل مقصود اس کو ہرگز نہیں ٹھہرانا چاہئے کہ یہی ہلاکت کی جڑ ہے بلکہ اصل مقصود یہی ہونا چاہئے کہ قرآن شریف کی تعلیم کے موافق احکام الہی پر پابندی نصیب ہو اور تزکیہ نفس حاصل ہو اور خدا تعالیٰ کی محبت اور عظمت دل میں بیٹھ جائے اور گناہ سے نفرت ہو خدا تعالیٰ نے بھی یہی دعا سکھاتی ہے کہ اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ پس اس جگہ خدا نے یہ نہیں فرمایا کہ تم یہ دُعا کرو کہ ہمیں الہام ہو۔بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تم یہ دُعا کرو کہ راہ راست ہمیں نصیب ہو۔ان لوگوں کے راہ جو آخر کا رخدا تعالیٰ کے انعام سے مشرف ہو گئے۔بندہ کو اس سے کیا مطلب ہے کہ وہ الہام کا خواہش مند ہو اور نہ بندہ کی اس میں کچھ فضیلت ہے۔بلکہ یہ تو خدا تعالیٰ کا فعل ہے نہ بندہ کا عمل صالح تا اس پر اجر کی توقع ہو۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۴۲ مؤرخہ ۲۴ نومبر ۱۹۰۷ ء صفحہ ۷) نماز کا ( جو مومن کی معراج ہے ) مقصود یہی ہے کہ اس میں دُعا کی جاوے اور اسی لئے اُم الادعیہ اهدنا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ دُعا مانگی جاتی ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخه ۲۴/اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۱) ہونا چاہئے اور شئے ہے اور ہے اور شئے ہے۔اس ہے کا علم سوائے دُعا کے نہیں حاصل ہوتا۔عقل سے کام لینے والے ہے کے علم کو نہیں پاسکتے اس لئے ہے خدارا بخدا تو اں شناخت - لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ (الانعام : ١٠٣) کے یہی معنی ہیں کہ وہ صرف عقلوں کے ذریعہ سے شناخت نہیں کیا جاسکتا بلکہ خود جو ذریعے (اس نے ) بتلائے ہیں ان سے ہی اپنے وجود کو شناخت کرواتا ہے اور اس امر کے لئے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ جیسی اور کوئی دُعا نہیں ہے۔البدر جلد ۳ نمبر ۱۰ مؤرخه ۸ / مارچ ۱۹۰۴ ء صفحہ ۷ )