تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 306
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة وَفِي آيَةٍ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی آیت میں صحیح معرفت إشَارَةٌ وَحَثَّ عَلَى دُعَاءِ صِةِ الْمَعْرِفَةِ ( کے حصول کی دُعا کرنے کی طرف اشارہ اور ترغیب ہے گویا كَأَنَّهُ يُعَلِّمُنَا وَ يَقُولُ ادْعُوا الله أَن خدا ہمیں یہ سکھاتا ہے اور کہتا ہے (اے بندو!) تم مجھ سے دُعا يُرِيَكُمْ صِفَاتَهُ كَمَا هِيَ وَيَجْعَلَكُمْ کرو کہ میں تمہیں اپنی حقیقی صفات دکھلاؤں اور تمہیں شاکر مِنَ الشَّاكِرِينَ لأَنَّ الْأُمَمَ الْأُولى ما بندوں میں شامل کر لوں کیونکہ پہلی امتیں خدا تعالیٰ کی صفات، ضَلُّوا إِلَّا بَعْدَ كَوْنِهِمْ عُمْيًّا فِي مَعْرِفَةِ اُس کے انعامات اور اُس کی خوشنودی کی معرفت سے اندھا صِفَاتِ اللهِ تَعَالَى وَ إِنْعَامَاتِهِ ہونے پر ہی گمراہ ہوئی ہیں کیونکہ وہ لوگ اپنی زندگی کے ایام وَمَرَضَاتِهِ فَكَانُوا يُفَانُوْنَ الْأَيَّام قیما ایسے کاموں میں گزارتے تھے جو اُن کے گناہوں کو بڑھاتے يَزِيدُ الْأَثَامَ فَحَلَّ غَضَبُ الله عَلَيْهِم تھے۔پس اُن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا اور اُن پر ذلّت فَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ اللَّهُ وَكَانُوا مِن ڈال دی گئی اور وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل ہو گئے۔اسی الْهَالِكِينَ۔وَإِلَيْهِ أَشَارَ الله تعالی فی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں قَوْلِهِ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ۔اشارہ کیا ہے۔( ترجمہ از مرتب ) (کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۱۲۳) اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِیم کی دُعا دین اور دنیا کی ساری حاجتوں پر حاوی ہے۔کیونکہ کسی امر میں جب تک صراط مستقیم نہ ملے کچھ نہیں بنتا۔طبیب کو ، زراعت کرنے والے کو غرض ہر انسان کو ہر کام میں صراط مستقیم کی ضرورت ہے۔الحکم جلدے نمبر ۳ مؤرخه ۲۴ /جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۱۲) بہترین دعا فاتحہ ہے کیونکہ وہ جامع دُعا ہے۔جب زمیندار کو زمینداری کا ڈھب آجاوے گا تو وہ زمینداری کے صراط مستقیم پر پہنچ جاویگا اور کامیاب ہو جاوے گا۔اسی طرح تم خدا کے ملنے کی صراط مستقیم تلاش کرو اور دُعا کرو کہ یا الہی میں ایک تیرا گنہ گار بندہ ہوں اور افتادہ ہوں۔میری راہنمائی کر۔ادنی اور اعلیٰ سب حاجتیں بغیر شرم کے خدا سے مانگو کہ اصل معطی وہی ہے۔بہت نیک وہی ہے جو بہت دُعا کرتا ہے کیونکہ۔اگر کسی بخیل کے دروازہ پر سوالی ہر روز جا کر سوال کرے گا تو آخر ایک دن اُس کو بھی شرم آجاوے گی۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۹،۳۸ مؤرخہ ۱۰ تا ۱۷ارنومبر ۱۹۰۴ء صفحه ۶) تم ان مردوں کی طرف خیال مت کرو جو خود بھی مُردہ اور اسلام کو بھی مردہ بناتے ہیں یہ تو در حقیقت ایسا