تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 305
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۰۵ سورة الفاتحة ولكن الاعتقاد لَيْسَ كَعَيْنِ لیکن صرف اعتقاد عین الیقین کی طرح نہیں ہو سکتا الْيَقِينِ وَلَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ وَلَا کیونکہ سُنی سنائی بات مشاہدہ کی طرح نہیں ہوتی اور يَسْتَوِى حَالُ أُولى الْأَبْصَارِ وَالْعَمِينَ آنکھیں رکھنے والوں اور اندھوں کی حالت یکساں نہیں بَلْ مَن يَدرَبُ بِاسْتِجَابَةِ الدَّعَوَاتِ حَقٌّی ہوتی۔بلکہ جس شخص کو دعاؤں کی قبولیت کا پورا تجربہ ہوا اور التَّدَرُّبِ وَكَانَ مَعَهُ أَثَرَ مِنَ الْمُشَاهَدَاتِ اس کے ساتھ ہی مشاہدات بھی ہو چکے ہوں ایسے شخص کو فَلَا يَبْقَى لَه شَكٍّ وَ لَارَيْبٌ في قُبُولِيَّةِ دُعاؤں کی قبولیت میں کوئی شک و شبہ نہیں رہ سکتا اور جو الْأَدْعِيَةِ۔وَالَّذِيْنَ يَشُكُونَ فِيْهَا فَسَبَبُهُ لوگ اس بارہ میں شک کرتے ہیں اس کا سبب اُن کی حِرْمَانَهُمْ مِنْ ذلِكَ الْحَظِ ثُمَّ قِلَّةُ قبولیت دعا کے حصہ سے محرومی ، اپنے پروردگار کی طرف الْتِقَاتِهِمْ إلى رئيمُ وَابْتِلَاعِهِمْ بِسِلْسِلَةِ اُن کی توجہ کی کمی اور اس سلسلہ، اسباب میں اُن کا اُنکچھ جانا أَسْبَابٍ تُوجَد في وَاقِعَاتِ الْفِطرَةِ ہے جو واقعات فطرت اور مظاہر قدرت میں پائے جاتے وَظُهُورَاتِ الْقُدْرَةِ فَمَا تَرَقَّتْ أَعْيُهُمْ ہیں۔پس اُن کی نگاہیں ان موجودہ ماڈی اسباب سے جو فَوْقَ الْأَسْبَابِ الْمَادِيَّةِ الْمَوْجُوْدَةٍ أَمَامَ آنکھوں کے سامنے ہوں او پر نہیں اُٹھتیں۔لہذا وہ اُن الْأَعْيُنِ فَاسْتَبْعَدُوا مَا لَمْ تُحط بها تمام امور کو مستبعد خیال کرتے ہیں جن پر اُن کی عقلیں ارَآؤُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ - حاوی نہ ہو سکیں اور وہ ہدایت پانے والے نہیں ہوتے۔کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۲۲) ( ترجمه از مرتب) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں آج کل کے مولویوں کا رڈ ہے جو یہ مانتے ہیں کہ سب روحانی فیوض اور برکات ختم ہو گئے ہیں اور کسی کی محنت اور مجاہدہ کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا اور اُن برکات اور ثمرات سے حصہ نہیں ملتا جو پہلے منعم علیہ گروہ کو ملتا ہے۔یہ لوگ قرآن شریف کے فیوض کو اب گویا بے اثر مانتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات قدسی کے قائل نہیں کیونکہ اگر اب ایک بھی آدمی اس قسم کا نہیں ہوسکتا جو منعم علیہ گروہ کے رنگ میں رنگین ہو سکے تو پھر اس دُعا کے مانگنے سے فائدہ کیا ہوا ؟ مگر نہیں یہ ان لوگوں کی غلطی اور سخت غلطی ہے جو ایسا یقین کر بیٹھے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فیوض اور برکات کا دروازہ اب بھی اُسی طرح کھلا ہے لیکن وہ سارے فیوض اور برکات محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع سے ملتے ہیں اور اگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کے بغیر یہ دعویٰ کرے کہ وہ روحانی برکات اور سماوی انوار سے حصہ پاتا ہے تو ایسا شخص جھوٹا اور کذاب ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۹ مؤرخہ ۲۴ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۲)