تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 291
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۱ سورة الفاتحة دوو نماز میں بالخصوص دعا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں دلی آہوں سے، دلی تضرعات سے، دلی خضوع سے، بچے دلی جوش سے حضرت احدیت کا فیض طلب کرنا چاہئے اور اپنے تئیں ایک مصیبت زدہ اور عاجز اور لا چار سمجھ کر اور حضرت احدیت کو قادر مطلق اور رحیم کریم یقین کر کے رابطہ محبت اور قرب کے لئے دُعا کرنی چاہئے۔اس جناب میں خشک ہونٹوں کی دُعا قابل پذیرائی نہیں۔فیضان سماوی کے لئے سخت بیقراری اور جوش و گریہ وزاری شرط ہے۔اور نیز استعداد قریبہ پیدا کرنے کے لئے اپنے دل کو ماسوا اللہ کے شغل اور فکر سے بکلی خالی اور پاک کر لینا چاہئے۔کسی کا حسد اور حقد دل میں نہ رہے۔بیداری بھی پاک باطنی کے ساتھ ہو اور خواب بھی۔بے مغز با تیں سب فضول ہیں اور جو عمل روح کی روشنی سے نہیں وہ تاریکی اور ظلمت ہے۔الحکم جلد ۲ نمبر ۲۷،۲۶ مؤرخہ ۶، ۱۳ ستمبر ۱۸۹۸ء صفحہ ۷) خاکساری اور نیستی کو اسی قادر مطلق سے طلب کرنا چاہئے اهْدِنَا القِيرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں جو مانگا گیا ہے وہ بھی خاکساری اور نیستی ہے۔(مکتوبات احمد جلد اوّل صفحه ۵۸۱) نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم رتبہ کوئی اور کتاب ہے۔اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے اور اس کے ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے خدا نے یہ بنیاد ڈالی ہے کہ اس کے افاضہ تشریعی اور روحانی کو قیامت تک جاری رکھا اور آخر کار اُس کی روحانی فیض رسانی سے اس مسیح موعود کو دنیا میں بھیجا جس کا آنا اسلامی عمارت کی تکمیل کے لئے ضروری تھا کیونکہ ضرور تھا کہ یہ دنیا ختم نہ ہو جب تک کہ محمدی سلسلہ کے لئے ایک مسیح روحانی رنگ کا نہ دیا جاتا جیسا کہ موسوی سلسلہ کے لئے دیا گیا تھا اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - (کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۴) اصل حقیقت اور اصل سرچشمہ نجات کا محبت ذاتی ہے جو وصالِ الہی تک پہنچاتی ہے۔وجہ یہ کہ کوئی محب اپنے محبوب سے جدا نہیں رہ سکتا۔اور چونکہ خدا خود نور ہے اس لئے اس کی محبت سے نور نجات پیدا ہو جاتا ہے اور وہ محبت جو انسان کی فطرت میں ہے خدا تعالیٰ کی محبت کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی محبت ذاتی انسان کی محبت ذاتی میں ایک خارق عادت جوش بخشتی ہے۔اور ان دونوں محبتوں کے ملنے سے ایک فنا کی صورت پیدا ہو کر بقا باللہ کا نور پیدا ہو جاتا ہے۔اور یہ بات کہ دونوں محبتوں کا باہم ملنا ضروری طور پر اس