تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 290

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۰ سورة الفاتحة آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور عظمت پر بطور گواہ ٹھہرے۔دو احکم جلد ۸ نمبر ۳۶ مؤرخه ۲۴/اکتوبر ۱۹۰۴ صفحه ۲) انسان کا اعلیٰ درجہ وہی نفس مطمئنہ ہے جس پر میں نے گفتگو شروع کی ہے اسی حالت میں اور تمام حالتوں سے ایسے لوازم ہو جاتے ہیں کہ عام تعلق الہی سے بڑھ کر خاص تعلق ہو جاتا ہے جو زمینی اور سطحی نہیں ہوتا بلکہ علوی اور سماوی تعلق ہوتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ یہ اطمینان جس کو فلاح اور استقامت بھی کہتے ہیں۔اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے اور اسی راہ کی دعا تعلیم کی گئی ہے اور یہ استقامت کی راہ اُن لوگوں کی راہ ہے جو منعم علیہم ہیں۔اللہ تعالیٰ کے افضال واکرام کے مورد ہیں۔منعم علیہم کی راہ کو خاص طور پر بیان کرنے سے یہ مطلب تھا کہ استقامت کی راہیں مختلف ہیں۔مگر وہ استقامت جو کامیابی اور فلاح کی راہوں کا نام ہے وہ انبیاء علیہم السلام کی راہیں ہیں۔اس میں ایک اور اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں وہ دعا انسان کی زبان ، قلب اور فعل سے ہوتی ہے۔اور جب انسان خدا سے نیک ہونے کی دعا کرے تو اُسے شرم آتی ہے۔مگر یہی ایک دعا ہے جو ان مشکلات کو دور کر دیتی ہے۔رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۱۴۴، ۱۴۵) یہ ضروری امر ہے کہ پہلے قومی کو ان کے فطرتی کاموں پر لگاؤ تو اور بھی ملے گا۔ہمارا اپنا ذاتی تجربہ ہے کہ جہاں تک عملی طاقتوں سے کام لیا جاوے اللہ تعالیٰ اس پر برکت نازل کرتا ہے۔مطلب یہی ہے کہ اوّل عقائد ، اخلاق، اعمال کو درست کرو۔پھر اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دُعا مانگو تو اس کا اثر کامل طور پر ظاہر رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ صفحه ۱۴۶) ہوگا۔دو وو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں تمام مسلمانوں کو لازم ہے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا لحاظ رکھیں۔کیونکہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کو ايَّاكَ نَسْتَعِينُ پر مقدم رکھا ہے۔پس پہلے عملی طور پر شکریہ کرنا چاہئے اور یہی مطلب اهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ میں رکھا ہے۔یعنی دُعا سے پہلے اسباب ظاہری کی رعایت اور نگہداشت ضروری طور پر کی جاوے۔اور پھر دُعا کی طرف رجوع ہو۔اولاً عقائد، اخلاق اور عادات کی اصلاح ہو۔پھر اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔۔۔۔۔۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دُعا تعلیم کرنے میں اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے کہ انسان تین پہلو ضرور مد نظر رکھے۔اول اخلاقی حالت۔دوم حالت عقائد۔سوم اعمال کی حالت۔مجموعی طور پر یوں کہو کہ انسان خدا داد قوتوں کے ذریعے سے اپنے حال کی اصلاح کرے اور پھر اللہ تعالیٰ سے مانگے۔یہ مطلب نہیں کہ اصلاح کی صورت میں دُعا نہ کرے نہیں۔اُس وقت بھی مانگتا ر ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۴۸)