تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 279
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۹ سورة الفاتحة ہماری پنج وقتہ نماز میں ہمیں یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے ہمارے خدا! ہم سے پہلے جس قدر نبی اور رسول اور صدیق اور شہید گذر چکے ہیں اُن سب کے کمالات ہم میں جمع کر۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۶) یعنی اے ہمارے خدا! ہمیں وہ سیدھی راہ دکھلا جو اُن لوگوں کی راہ ہے جن پر تیر افضل اور انعام ہوا۔اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ وہی فضل اور انعام جو تمام نبیوں اور صدیقوں پر پہلے ہو چکا ہے وہ ہم پر بھی کر اور کسی یہ فضل سے ہمیں محروم نہ رکھ۔یہ آیت اس اُمت کو اس قدر عظیم الشان اُمید دلاتی ہے جس میں گذشتہ اُمتیں شریک نہیں ہیں۔کیونکہ تمام انبیاء کے متفرق کمالات تھے اور متفرق طور پر اُن پر فضل اور انعام ہوا۔اب اس اُمت کو یہ دعا سکھلائی گئی کہ اُن تمام متفرق کمالات کو مجھ سے طلب کرو۔پس ظاہر ہے کہ جب متفرق روووو کمالات ایک جگہ جمع ہو جائیں گے تو وہ مجموعہ متفرق کی نسبت بہت بڑھ جائے گا۔اسی بنا پر کہا گیا کہ کنتُم خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( آل عمران : 111) یعنی تم اپنے کمالات کے رُو سے سب اُمتوں سے بہتر ہو۔چشمه مسیحی ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۸۱٬۳۸۰) یادرکھنا چاہئے کہ اس اُمت کے لئے مخاطبات اور مکالمات کا دروازہ کھلا ہے۔اور یہ دروازہ گویا قرآن مجید کی سچائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی پر ہر وقت تازہ شہادت ہے اور اس کے لئے خدا تعالیٰ نے سورہ فاتحہ ہی میں یہ دعا سکھائی ہے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی راہ کے لئے جو دعا سکھائی تو ان میں انبیاء علیہم السلام کے کمالات کے حصول کا اشارہ ہے اور یہ ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو جو کمال دیا گیا وہ معرفت الہی ہی کا کمال تھا اور یہ نعمت ان کو مکالمات اور مخاطبات سے ملی تھی اسی کے تم بھی خواہاں رہو۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۷ مؤرخہ ۲۴/اکتوبر ۱۹۰۶ صفحه ۴) خدا کی کلام کوغور سے پڑھو کہ وہ تم سے کیا چاہتا ہے۔وہ وہی امر تم سے چاہتا ہے جس کے بارہ میں سورہ فاتحہ میں تمہیں دعا سکھلائی گئی ہے۔یعنی یہ دُعا کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عليهم پس جب کہ خدا تمہیں یہ تاکید کرتا ہے کہ پنج وقت یہ دعا کرو کہ وہ نعمتیں جو نبیوں اور رسولوں کے پاس ہیں وہ تمہیں بھی ملیں۔پس تم بغیر نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ کے وہ نعمتیں کیونکر پا سکتے ہو؟ لہذا ضرور ہوا کہ تمہیں یقین اور محبت کے مرتبہ پر پہنچانے کے لئے خدا کے انبیاء وقتاً بعد وقت آتے رہیں جن سے تم وہ