تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 278
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۸ سورة الفاتحة انْقَطى وَ كَعَكْسِ لِصُورَةٍ فِي الْمِراةِ ہوتی ہے اور گویا عکس ہوتے ہیں ایک صورت کے جو شیشہ يُرى وَإِنَّهُمُ اكْتَعَلُوا بِرُودِ الْفَنَاءِ وَ میں نظر آتا ہے۔ان لوگوں نے فنا کی سلائیوں سے سرمہ از تحلُوا مِنْ فِنَاءِ الرِّيَاءِ فَمَا بَقِيَتْ شَیئ آنکھ میں ڈالا ہوتا ہے اور ریا کاری کے آنگن سے کوچ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَظَهَرَتْ صُورَةُ خَاتَمِ کر چکے ہوتے ہیں۔اس طرح پر ان کا اپنا تو کچھ بھی رہا الْأَنْبِيَاءِ۔فَكُلُّ مَا تَرَوْنَ مِنْهُم مِن نہیں ہوتا اور خاتم الانبیاء کی صورت ہی نمودار ہو جاتی أَفْعَالٍ خَارِقَةٍ لِلْعَادَةِ أَوْ أَقْوَالٍ ہے۔سو ان لوگوں سے جو کچھ خارق عادت افعال یا اقوال مُقابِبَةٍ بِالصُّحُفِ الْمُطَهَّرَةِ فَلَيْسَت پاک نوشتوں سے مشابہ تم دیکھتے ہو وہ ان کی طرف سے هِيَ مِنْهُمْ بَلْ مِنْ سَيِّدِنَا خَيْرِ الْبَرِيَّةِ نہیں بلکہ وہ حضرت سید المرسلین (صلی اللہ علیہ وسلم) کی لكن في الْحَلَلِ الظَّليَّةِ۔وَإِن كُنتُمْ في طرف سے ہوتے ہیں۔ہاں وہ ظلیت کے لباسوں میں رَيْبٍ مِنْ هَذَا الشَّأْنِ لِأَوْلِيَاء ہوتے ہیں اور تمہیں اولیاء الرحمان کی نسبت ایسی بزرگی الرَّحْمَانِ فَاقْرَءُوا آيَةً صِرَاطَ الَّذِيْنَ اور شان میں شک ہے تو پڑھ لو آیت صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کو غور اور فکر سے۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ بِالْإِمْعَانِ الهدی، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۷۵،۲۷۴) راست ملتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ نے حق کے طالبوں کو کامل معرفت دینے کا ارادہ فرمایا ہے تو ضرور اس نے اپنے مکالمہ اور مخاطبہ کا طریق کھلا رکھا ہے۔اس بارے میں اللہ جل شانہ قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے اهْدِنَا القيراط الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے خدا ہمیں وہ استقامت کی راہ بتلا جو راہ اُن لوگوں کی ہے جن پر تیرا انعام ہوا ہے اس جگہ انعام سے مراد الہام اور کشف وغیرہ آسمانی علوم ہیں جو انسان کو براہِ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۳۶، ۴۳۷) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ یعنی اے ہمارے خدا ہمیں رسولوں اور نبیوں کی راہ پر چلا جن پر تیرا انعام اور اکرام ہوا ہے۔اب اس آیت سے کہ جو پنج وقت نماز میں پڑھی جاتی ہے ظاہر ہے کہ خدا کا روحانی انعام جو معرفت اور محبت الہی ہے صرف رسولوں اور نبیوں کے ذریعہ سے ہی ملتا ہے نہ کسی اور ذریعہ سے۔(حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۳۵،۱۳۴) چونکہ وہ جانتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جامع کمالات تمام انبیاء کے ہیں اس لئے اُس نے