تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 259
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۹ سورة الفاتحة جس کی تحصیل کے لئے کوشش کرنا ہر ایک مسلمان پر فرض کیا گیا ہے اور اُس کی دُعا ہر نماز میں بھی مقرر ہوئی ہے جو صراط مستقیم کو مانگتا ر ہے کیونکہ یہ امر اس کو توحید پر قائم کرنے والا ہے کیونکہ صراط مستقیم پر ہونا خدا کی صفت ہے علاوہ اس کے صراط مستقیم کی حقیقت حق اور حکمت ہے۔پس اگر وہ حق اور حکمت خدا کے بندوں کے ساتھ بجالایا جائے تو اُس کا نام حقیقی نیکی ہے اور اگر خدا کے ساتھ بجالایا جائے تو اُس کا نام اخلاص اور احسان ہے اور اگر اپنے نفس کے ساتھ ہو تو اُس کا نام تزکیہ نفس ہے اور صراط مستقیم ایسا لفظ ہے کہ جس میں حقیقی نیکی اور اخلاص باللہ اور تزکیہ نفس تینوں شامل ہیں۔اب اس جگہ یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ صراط مستقیم جو حق اور حکمت پر مبنی ہے تین قسم پر ہے۔علمی اور عملی اور حالی اور پھر یہ تینوں تین قسم پر ہیں۔علمی میں حق اللہ اور حق العباد اور حق النفس کا شناخت کرنا ہے اور عملی میں اُن حقوق کو بجالانا۔مثلاً حق علمی یہ ہے کہ اُس کو ایک سمجھنا اور اُس کو مبداء تمام فیوض کا اور جامع تمام خوبیوں کا مرجع اور ماب ہر ایک چیز کا اور منزہ ہر ایک عیب اور نقصان سے جاننا اور جامع تمام صفات کا ملہ ہونا اور قابل عبود بیت ہونا اسی میں محصور رکھنا یہ تو حق اللہ میں علمی صراط مستقیم ہے۔اور عملی صراط مستقیم یہ ہے جو اُس کی طاعت اخلاص سے بجالانا اور طاعت میں اُس کا کوئی شریک نہ کرنا اور اپنی بہبودی کے لئے اسی سے دُعا مانگنا اور اُسی پر نظر رکھنا اور اُسی کی محبت میں کھوئے جانا یہ عملی صراط مستقیم ہے کیونکہ یہی حق ہے۔پر اور حق العباد میں علمی صراط مستقیم یہ جو اُن کو اپنا بنی نوع خیال کرنا اور اُن کو بندگان خدا سمجھنا اور بالکل پیچ اور نا چیز خیال کرنا کیونکہ معرفت حقہ مخلوق کی نسبت یہی ہے جو اُن کا وجود پیچ اور نا چیز ہے اور سب فانی ہیں یہ توحید علمی ہے کیونکہ اس سے عظمت ایک کی ذات کی نکلتی ہے کہ جس میں کوئی نقصان نہیں اور اپنی ذات میں کامل ہے۔اور عملی صراط مستقیم یہ ہے (کہ) حقیقی نیکی بجالانا یعنی وہ امر جو حقیقت میں اُن کے حق میں اصلح اور راست ہے بجالانا۔یہ توحید عملی ہے کیونکہ موحد کی اس میں یہ غرض ہوتی ہے کہ اس کے اخلاق سراسر خدا کے اخلاق میں فانی ہوں۔اور حق النفس میں علمی صراط مستقیم یہ ہے کہ جو جو نفس میں آفات پیدا ہوتے ہیں جیسے عجب اور ریا اور تکبر اور حقد اور حسد اور غرور اور حرص اور بخل اور غفلت اور ظلم اُن سب سے مطلع ہونا اور جیسے وہ حقیقت میں اخلاق رذیلہ ہیں ویسا ہی اُن کو اخلاق رذیلہ جاننا یہ علمی صراط مستقیم ہے اور یہ توحید علمی ہے کیونکہ اس سے عظمت ایک ہی ذات کی نکلتی ہے کہ جس میں کوئی عیب نہیں اور اپنی ذات میں قدوس ہے۔