تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 258

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۸ سورة الفاتحة طرف اشارہ کیا ہے کہ کوئی انسان ہدایت طلب کرنے اور انعام الہی پانے سے ممنوع نہیں ہے مگر بموجب اصول آریا سماج کے ہدایت طلب کرنا گنہگار کے لئے نا جائز ہے اور خدا اس کو ضرور سزا دے گا اور ہدایت پانا نہ پانا اس کے لئے برابر ہے۔برہمو سماج والوں کا دعاؤں پر کچھ ایسا اعتقاد یہی نہیں وہ ہر وقت اپنی عقل کے گھمنڈ میں رہتے ہیں اور نیز ان کا یہ بھی مقولہ ہے کہ کسی خاص دعا کو بندگی اور عبادت کے لئے خاص کرنا ضروری نہیں۔انسان کو اختیار ہے جو چاہے دعا مانگے مگر یہ ان کی سراسر نادانی ہے اور ظاہر ہے کہ اگر چہ جزوی حاجات صد با انسان کو لگی ہوئی ہیں مگر حاجت اعظم جس کا دن رات اور ہر یک دم فکر کرنا چاہئے صرف ایک ہی ہے یعنی یہ کہ انسان ان طرح طرح کے حجب ظلمانیہ سے نجات پاکر معرفت کامل کے درجہ تک پہنچ جائے اور کسی طرح کی نابینائی اور کور باطنی اور بے مہری اور بے وفائی باقی نہ رہے بلکہ خدا کو کامل طور پر شناخت کر کے اور اس کی خالص محبت سے پر ہو کر مرتبہ وصال الہی کا جس میں اس کی سعادت تامہ ہے پالیوے۔یہی ایک دعا ہے جس کی انسان کو سخت حاجت ہے اور جس پر اس کی ساری سعادت موقوف ہے سو اس کے حصول کا سیدھا راستہ یہی ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم کہے کیونکہ انسان کے لئے ہر یک مطلب کے پانے کا یہی ایک طریق ہے کہ جن راہوں پر چلنے سے وہ مطلب حاصل ہوتا ہے ان راہوں پر مضبوطی سے قدم مارے اور وہی راستہ اختیار کرے کہ جو سیدھا منزل مقصود تک پہنچتا ہے اور بے راہیوں کو چھوڑ دے اور یہ بات نہایت بدیہی ہے کہ ہر شے کے حصول کے لئے خدا نے اپنے قانونِ قدرت میں صرف ایک ہی راستہ ایسا رکھا ہے جس کو سیدھا کہنا چاہئے اور جب تک ٹھیک ٹھیک وہی راستہ اختیار نہ کیا جائے ممکن نہیں کہ وہ چیز حاصل ہو سکے جس طرح خدا کے تمام قواعد قدیم سے مقرر اور منضبط ہیں ایسا ہی نجات اور سعادت اُخروی کی تحصیل کے لئے ایک خاص طریق مقرر ہے جو مستقیم اور سیدھا ہے۔سودعا میں وضع استقامت یہی ہے کہ اسی طریق مستقیم کو خدا سے مانگا جائے۔( براہین احمدیہ چہار تصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۳۲ تا ۵۴۵ حاشیه نمبر۱۱) حقیقی نیکی پر قدم مارنا صراط مستقیم ہے اور اسی کا نام توسط اور اعتدال ہے کیونکہ تو حید فعلی جو مقصود بالذات ہے وہ اس سے حاصل ہوتی ہے اور جو شخص اس نیکی کے حاصل کرنے میں مسائل رہے وہ درجہ تفریط میں ہے اور جو شخص اس سے آگے بڑھے وہ افراط میں پڑتا ہے ہر جگہ رحم کرنا افراط ہے کیونکہ محل کے ساتھ بے محل کا پیوند کر دینا اصل پر زیادتی ہے اور یہی افراط ہے اور کسی جگہ بھی رحم نہ کرنا یہ تفریط ہے کیونکہ اس میں محل بھی فوت کر دیا اور یہی تفریط ہے وضع شی کا اپنے محل پر کرنا یہ توسط اور اعتدال ہے کہ جو صراط مستقیم سے موسوم ہے