تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 202

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٢٠٢ سورة الفاتحة بات کو پیش کرتی ہے کہ زمین پر خدا مسلوب السلطنت لوگوں کی طرح بے کار نہیں ہے بلکہ اس کا سلسلہ ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت اور مجازات زمین پر جاری ہے اور وہ اپنے عابدوں کو مدددینے کی طاقت رکھتا ہے اور مجرموں کو اپنے غضب سے ہلاک کر سکتا ہے وہ دُعا یہ ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ ي - مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ - إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ـ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔آمین۔ترجمہ۔وہ خدا ہی ہے جو تمام تعریفوں کا مستحق ہے یعنی اس کی بادشاہت میں کوئی نقص نہیں اور اس کی خوبیوں کے لئے کوئی ایسی حالت منتظرہ باقی نہیں جو آج نہیں مگر کل حاصل ہوگی اور اس کی بادشاہت کے لوازم میں سے کوئی چیز بے کار نہیں تمام عالموں کی پرورش کر رہا ہے بغیر عوض اعمال کے رحمت کرتا ہے اور نیز بعوض اعمال رحمت کرتا ہے جزا سز ا وقت مقرر پر دیتا ہے اُسی کی ہم عبادت کرتے ہیں اور اُسی سے ہم مدد چاہتے ہیں اور دُعا کرتے ہیں کہ ہمیں تمام نعمتوں کی راہیں دکھلا اور غضب کی راہوں اور ضلالت کی راہوں سے دور رکھ۔یہ دُعا جوسورۃ فاتحہ میں ہے انجیل کی دُعا سے بالکل نقیض ہے کیونکہ انجیل میں زمین پر خدا کی موجودہ بادشاہت ہونے سے انکار کیا گیا ہے پس انجیل کے رو سے نہ زمین پر خدا کی ربوبیت کچھ کام کر رہی ہے نہ رحمانیت نہ رحیمیت نه قدرت جزا سزا کیونکہ ابھی زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں آئی۔مگر سورۃ فاتحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر خدا کی بادشاہت موجود ہے اس لئے سورۃ فاتحہ میں تمام لوازم بادشاہت کے بیان کئے گئے ہیں ظاہر ہے کہ بادشاہ میں یہ صفات ہونی چاہئیں کہ وہ لوگوں کی پرورش پر قدرت رکھتا ہو سوسورۃ فاتحہ میں رَبِّ الْعَالَمین کے لفظ سے اس صفت کو ثابت کیا گیا ہے۔پھر دوسری صفت بادشاہ کی یہ چاہئے کہ جو کچھ اُس کی رعایا کو اپنی آبادی کے لئے ضروری سامان کی حاجت ہے وہ بغیر عوض ان کی خدمات کے خود رحم خسروانہ سے بجالا وے سو الرحمن کے لفظ سے اس صفت کو ثابت کر دیا ہے۔تیسری صفت بادشاہ میں یہ چاہئے کہ جن کاموں کو اپنی کوشش سے رعایا انجام تک نہ پہنچا سکے ان کے انجام کے لئے مناسب طور پر مدد دے۔سو الرّحیم کے لفظ سے اس صفت کو ثابت کیا ہے چوتھی صفت بادشاہ میں یہ چاہئے کہ جزا و سزا پر قادر ہوتا سیاست مدنی کے کام میں خلل نہ پڑے سو مالک یوم الدین کے لفظ سے اس صفت کو ظاہر کر دیا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ سورۃ موصوفہ بالا نے تمام وہ لوازم بادشاہت پیش کئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ زمین پر خدا کی بادشاہت اور بادشاہی تصرفات موجود ہیں چنانچہ اُس کی ربوبیت بھی موجود اور رحمانیت بھی موجود اور رحیمیت بھی موجود اور سلسلہ امداد بھی موجود اور سلسلہ سزا بھی موجود۔غرض جو کچھ بادشاہت کے لوازم میں سے ہوتا ہے زمین پر سب کچھ خدا کا موجود ہے اور ایک ذرہ بھی اُس کے حکم سے باہر نہیں ہر ایک جزا اس