تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 201
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۱ سورة الفاتحة یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان ان صفات کو اپنے اندر لے یعنی اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ساری صفتیں سزاوار ہیں جو رَبُّ العلمین ہے یعنی ہر عالم میں نطفہ میں مضغہ وغیرہ سارے عالموں میں غرض ہر عالم میں پھر رحمن ہے پھر رحیم ہے اور مُلِكِ يَوْمِ الدين ہے۔اب اِيَّاكَ نَعْبُدُ جو کہتا ہے تو گویا اس عبادت میں وہی ربوبیت رحمانیت رحیمیت مالکیت صفات کا پر تو انسان کو اپنے اندر لینا چاہئے کمال عابد انسان کا یہ ہے کہ تَخَلَّفُوا بِأَخْلاقِ اللہ اللہ تعالیٰ کے اخلاق میں رنگین ہو جاوے جب تک اس مرتبہ تک نہ پہنچ جائے نہ تھکے نہ ہارے۔اس کے بعد خود ایک کشش اور جذب پیدا ہو جاتا ہے جو عبادت الہی کی طرف اسے لئے جاتا ہے۔اور وہ حالت اس پر وارد ہو جاتی ہے جو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُون کی ہوتی ہے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مؤرخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۱ صفحه ۴) سورہ فاتحہ میں انسان کے لئے سبق سورہ فاتحہ اس لئے اللہ تعالیٰ نے پیش کی ہے اور اس میں سب سے پہلی صفت رب العلمین بیان کی ہے جس میں تمام مخلوقات شامل ہے۔اسی طرح پر ایک مومن کی ہمدردی کا میدان سب سے پہلے اتنا وسیع ہونا چاہئے کہ تمام چرند پرند اور گل مخلوق اس میں آجاوے۔پھر دوسری صفت رحمن کی بیان کی ہے جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ تمام جاندار مخلوق سے ہمدردی خصوصاً کرنی چاہئے اور پھر رحیم میں اپنی نوع سے ہمدردی کا سبق ہے۔غرض اس سورہ فاتحہ میں جو اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں یہ گویا خدا تعالیٰ کے اخلاق ہیں جن سے بند ہ کو حصہ لینا چاہئے۔اور وہ یہی ہے کہ اگر ایک شخص عمدہ حالت میں ہے تو اُس کو اپنی نوع کے ساتھ ہر قسم کی ممکن ہمدردی سے پیش آنا چاہئے۔اگر دوسرا شخص جو اس کا رشتہ دار ہے یا عزیز ہے خواہ کوئی ہے اس سے بیزاری نہ ظاہر کی جاوے اور اجنبی کی طرح اس سے پیش نہ آئیں بلکہ ان حقوق کی پروا کریں جو اس کے تم پر ہیں۔اس کو ایک شخص کے ساتھ قرابت ہے اور اس کا کوئی حق ہے تو اُس کو پورا کرنا چاہئے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۰ مؤرخه ۲۴ /اگست ۱۹۰۲ صفحه ۱) انجیل کی دُعا اور سورہ فاتحہ کی دُعا کا تقابل انجیل کی دُعا ہے جو انسانوں کو خدا کی رحمت سے نومید کرتی ہے اور اس کی ربوبیت اور افاضہ اور جزا سزا سے عیسائیوں کو بے باک کرتی ہے اور اس کو زمین پر مدد دینے کے قابل نہیں جانتی جب تک اس کی بادشاہت زمین پر نہ آوے لیکن اس کے مقابل پر جو دُعا خدا نے مسلمانوں کو قرآن میں سکھلائی ہے وہ اس