تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 196
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٩٦ سورة الفاتحة نرے اندھوں کے یہی معنے لیتے ہیں۔سو اس فاش غلطی سے آریوں کی دماغی روشنی کی حقیقت کھل گئی۔( شحنہ حق۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۹۷،۳۹۶) سورۃ فاتحہ میں مذاہب باطلہ کا رڈ اللہ تعالیٰ نے الحمد شریف میں اپنی صفات کا ملہ کا بیان کر کے اُن تمام مذاہب باطلہ کا رد کیا ہے۔جو عام طور پر دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔یہ سورت جو اھم الکتاب کہلاتی ہے۔اسی واسطے پانچوں وقت ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھی جاتی ہے کہ اس میں مذہب اسلام کی تعلیم موجود ہے اور قرآن مجید کا ایک قسم کا خلاصہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفات بیان کر کے ایک نظارہ دکھانا چاہا ہے اور بتایا ہے کہ اسلام نہایت ہی مبارک مذہب ہے جو اس خدا کی طرف رہبری کرتا ہے جو نہ تو عیسائیوں کے خدا کی طرح کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ ایسا ہے کہ آریوں کے پر میشر کی طرح مکتی دینے پر ہی قادر نہ ہو۔اور جھوٹے طور پر کہ دیتا ہے کہ عمل محدود ہیں حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ اس میں نجات دینے کی طاقت ہی نہیں کیونکہ روحیں تو اس کی بنائی ہوئی نہیں۔جیسے وہ آپ خود بخود ہے ویسے ہی ارواح بھی خود بخود ہیں۔یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ اور روحیں پیدا کر لے اس لئے یہ سوچ کر کہ اگر ہمیشہ کے لئے کسی روح کو مکتی دی جاوے تو آہستہ آہستہ وہ وقت آ جاوے گا کہ تمام روحیں مکتی یافتہ ہو کر میرے قبضہ سے نکل جائیں گی جس سے میرا تمام بنا بنایا کارخانہ درہم برہم ہو جائے گا۔اس لئے وہ بہانہ کے طور پر ایک گناہ ان کے ذمہ رکھ لیتا ہے اور اس دور کو چلائے جاتا ہے لیکن اسلام کا خدا ایسا قدوس اور قادر خدا ہے کہ اگر تمام دنیا مل کر اس میں کوئی نقص نکالنا چاہے تو نہیں نکال سکتی۔ہمارا خدا تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔وہ ہر ایک نقص اور عیب سے مبرا ہے کیونکہ جس میں کوئی نقص ہو۔وہ خدا کیوں کر ہو سکتا ہے اور اس سے ہم دُعائیں کس طرح مانگ سکتے ہیں اور اس پر امیدیں کیا رکھ سکتے ہیں وہ تو خود ناقص ہے نہ کہ کامل۔لیکن اسلام نے وہ قادر اور ہر ایک عیب سے پاک خدا پیش کیا ہے جس سے ہم دُعائیں مانگ سکتے ہیں اور بڑی بڑی امید میں پوری کر سکتے ہیں۔اسی واسطے اس نے اسی سورہ فاتحہ میں دُعا سکھائی ہے کہ تم لوگ مجھ سے دُعا مانگا کرو۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی یا الہی ہمیں وہ سیدھی راہ دکھا جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرے بڑے بڑے فضل اور انعام ہوئے اور یہ دعا اس واسطے سکھائی کہ تا تم لوگ صرف اس بات پر ہی نہ بیٹھ رہو کہ ہم ایمان لے آئیں ہیں بلکہ اس طرح سے اعمال بجالاؤ کہ ان انعاموں کو حاصل کرسکو جو خدا کے مقرب بندوں پر ہوا کرتے ہیں۔احکام نمبر ۲ جلد ۱۲ مورخه ۶ جنوری ۱۹۰۸ صفحه ۲، ۳)