تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 180

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۰ سورة الفاتحة مَعَ ذَالِكَ لَيْسَ وَقْتُنَا وَقتَ الْجِهَادِ | ایسی بدی ہے جو یکدم پھوٹ پڑی ہے اور ایسی آگ ہے جس وَ لَا زَمَنَ الْمُرْهَفَاتِ الْحَدَادِ وَلا نے عرب و عجم کو جلا دیا ہے۔بایں ہمہ ہمارا زمانہ جہاد کا زمانہ أَوَانَ ضَرْبِ الْأَعْنَاقِ وَ التَّقْرِيْنِ في نہیں اور نہ تیز تلواروں کا زمانہ ہے، نہ گردنیں مارنے اور الْأَصْفَادِ وَلَا زَمَانَ قَوْدِ أَهْلِ زنجیروں میں جکڑنے کا وقت ہے، نہ ہی گمراہوں کوز نجیروں اور الضَّلَالِ فِي السَّلَاسِلِ وَ الْأَغْلَالِ وَ طوقوں میں گھسیٹنے اور اُن پر قتل اور ہلاکت کے احکام جاری إِجْرَاءِ أَحْكامِ الْقَتْلِ وَ الْاِغْتِيَالِ کرنے کا زمانہ ہے۔یہ زمانہ کافروں کے غلبہ اور ان کے عروج فَإِنَّ الْوَقْتَ وَقْتُ غَلَبَةِ الْكَافِرِينِ کا زمانہ ہے اور مسلمانوں پر اُن کے اعمال کی وجہ سے ذلّت وَإِقْبَالِهِمْ وَ ضُرِبَتِ اللَّهُ عَلَی مسلط کر دی گئی ہے۔اب جہاد ( بالسیف ) کیوں کیا جائے الْمُسْلِمِينَ بِأَعْمَالِهِمْ۔وَكَيْفَ الْجِهَادُ جب کہ اس زمانہ میں) نہ کسی کو نماز اور روزہ سے روکا جاتا وَلا يُمْنَعُ أَحَدٌ مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّلوة۔ہے نہ حج اور زکوۃ سے اور نہ پاک دامنی اور پرہیز گاری سے وَلَا الْحَج وَ الزَّكوة وَلَا مِنَ الْعِفَّةِ اور نہ ہی کسی کافر نے مسلمانوں کو مرتد کرنے یا انہیں ٹکڑے وَالتَّقَاةِ وَ مَا سَلَ كَافِرُ سَيْفًا عَلَى ٹکڑے کرنے کے لئے ان پر تلوار سونتی ہے۔انصاف تو یہ ہے الْمُسْلِمِينَ لِيَرْتَدُّوا أَوْ يَجْعَلَهُمْ کہ تلوار کے مقابلہ میں تلوار اُٹھائی جائے اور قلموں کے مقابلہ عِضِينَ فَمِنَ الْعَدْلِ أَنْ يُسَلَّ میں قلمیں - ہم آج تلوار اور نیزے کے زخموں پر نہیں روتے۔الْحُسَامُ بِالْحُسَامِ وَ الْأَقْلَامُ ہم تو ان کی زبانوں سے پھیلائی ہوئی مفتریات پر روتے بِالْأَقْلَامِ وَ إِنَّا لَا نَبْكِي عَلى جِراحَاتِ ہیں۔اس زمانہ میں ) انہی مفتریات سے اللہ کے صحیفوں کو السَّيْفِ وَالسَّنَانِ وَإِثْمَا نَبكى على جھٹلایا گیا اور ان کے اسرار پر پردے ڈالے گئے۔ملت أكاذيب اللّسَانِ فَبِالأَكاذيب (اسلامیہ) کی عمارت پر حملہ کیا گیا اور اس کے گھر کو مسمار کر دیا كذِبَتْ صُحُفُ الله و ألخفى استرارُهَا - گیا۔پس یہ (ملت) ایک ایسے شہر کی مانند ہوگئی ہے جس کی وَصِيْلَ عَلَى عِمَارَةِ الْمِلَّةِ وَ هُدّم فصیلیں ٹوٹ گئی ہوں یا ایسے باغیچہ کی طرح ہے جس کے دَارُهَا فَصَارَت كَمَدِينَةٍ نُقِضَ درخت جلا دیئے گئے ہوں یا ایسے باغ کی مانند ہے جس کے أَسْوَارُهَا أَوْ حَدِيقَةٍ أُخْرِقَ پھول اور پھل برباد کر دیئے گئے ہوں اور اس کے شگوفے توڑ أَشْجَارُهَا أَوْ بُسْتَانِ أُتْلِفَ زَهْرُهَا کر پھینک دیئے گئے ہوں یا ایسے ملک کی مانند ہے جو کبھی بہت