تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 179
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 129 سورة الفاتحة اتَّبَعُوهُمْ۔نَبِيَّنَاصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ إِلَى | اور نصرت کے زمانہ کو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم الزَّمَانِ الْآخِرِ الَّذِي هُوَ زَمَانُ مَسیح کے زمانہ پر اور اس آخری زمانہ پر جو اس اُمت کے هذِهِ الْمِلَّةِ۔وَ كَذَالِكَ قَالَ وَاخَرِيْنَ مسیح کا زمانہ ہے تقسیم کر دیا۔اور اسی طرح اللہ تعالیٰ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ فَأَشَارَ إِلَى نے فرمایا ہے وَاخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ اس الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدِ وَ جَمَاعَتِهِ وَالَّذِيْنَ میں مسیح موعود، اس کی جماعت اور ان کے تابعین کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔فَقَبتَ بِنُصُوصٍ بَيْنَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ آن پس قرآن کریم کی نصوص بینہ سے ثابت ہوا کہ یہ هذِهِ الصَّفَاتِ قَد ظَهَرَتْ في زَمَن نَبينا صفات ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ثُمَّ تَظْهَرُ في آخِرِ الزَّمَانِ وَ هُوَ زَمَانٌ ظاہر ہوئیں۔پھر آخری زمانہ میں بھی ظاہر ہوں گی۔اور تَكْثُرُ فِيْهِ الْفِسْقُ وَالْفَسَادُ وَ يَقِلُّ آخری زمانہ ایسا زمانہ ہے جس میں بدکاری اور ہر قسم کی الصَّلاحُ وَ السَّدَادُ وَيُجَاحُ الإسلام خرابیاں بکثرت پھیل جائیں گی اور راستی اور راستبازی كَمَا تُجَاحُ التَّوْحَةُ وَ يَصِيرُ الْإِسْلام بہت ہی کم ہو جائے گی۔اسلام کی ایسی بیخ کنی ہوگی جیسا كَسَلِيْمٍ لَدَعْتُهُ الْحَيَّةُ وَيَصِيرُ که درخت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیا جاتا ہے۔اور اسلام الْمُسْلِمُونَ كَأَتَهُمُ الْمَيْتَةُ وَيُدَاسُ ایک ایسے شخص کی طرح ہو جائے گا جسے کسی سانپ نے الدين تَحْتَ الدَّوَاثِرِ الْهَائِلَةِ وَالتَّوَازِلِ ڈس لیا ہو۔مسلمانوں کی یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا کہ وہ النَّازِلَةِ السَّائِلَةِ وَ كَذَالِكَ تَرَوْنَ في مُردے ہیں اور (ان کا ) دین خوفناک حوادث اور دوسری هذَا الزَّمَانِ وَتُشَاهِدُوْنَ أَنْوَاعَ الْفِسْقِ متواتر نازل ہونے والی مصائب کے نیچے کچلا جائے گا اور وَ الْكُفْرِ وَاليِّركِ وَالطَّغْيَانِ وَتَرَوْنَ یہی حال تم اس زمانہ میں دیکھ رہے ہو۔اور تم انواع واقسام كَيْفَ كَثْرَ الْمُفْسِدُونَ وَ قَل کے فسق ، کفر، شرک اور سرکشی کا مشاہدہ کر رہے ہو اور دیکھ الْمُصْلِحُونَ الْمُوَاسُونَ وَحَانَ لِلشَّرِيعَةِ رہے ہو کہ کس طرح مفسد زیادہ ہو گئے ہیں اور مصلح اور غم أَن تُعْدَمَ۔وَانَ لِلْمِلَّةِ أَن تُكْتَمَ۔وَ هَذا خوار کم ہو گئے ہیں۔اور قریب ہے کہ شریعت نابود ہو بَلاءُ قَدْ ذَهَمَ ، وَعَنَاهُ قَدْ هَجَمَ۔وَشَرِّ قَدْ جائے اور ملت پوشیدہ ہو جائے یہ ایسی مصیبت ہے نَجَمَ۔وَ نَارُ أَحْرَقَتِ الْعَرَب وَالْعَجَمَ وَ جو نا گہاں وارد ہوئی ہے۔ایسی بپتا ہے جوٹوٹ پڑی ہے۔w : ( الجمعة : ۴) ترجمہ۔اور اسی طرح ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی (وہ اس کو بھیجے گا ) جو ابھی تک ان سے نہیں ملی۔