تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 162

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۲ سورة الفاتحة معلوم کیا کہ بائیبل کی تعلیم بہت سے لوگوں کو خدا کے بیٹے اور خدا کی بیٹیاں بلکہ خدا ہی بناتی ہے۔تو انہوں نے کہا کہ آؤ ہم بھی اپنے ابن مریم کو انہیں میں داخل کریں تا وہ دوسرے بیٹوں سے کم نہ رہ جائے۔اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ عیسائیوں نے ابن مریم کو ابن اللہ بنا کر کوئی نئی بات نہیں نکالی بلکہ پہلے بے ایمانوں اور مشرکوں کے قدم پر قدم مارا ہے۔غرض حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہودیوں کی یہ حالت تھی کہ مخلوق پرستی بدرجہ و غایت ان پر غالب آگئی تھی اور عقائد حقہ سے بہت دور جا پڑے تھے یہاں تک کہ بعض ان کے ہندوؤں کی طرح تناسخ کے بھی قائل تھے اور بعض جزا سزا کے قطعاً منکر تھے۔اور بعض مجازات کو صرف دنیا میں محصور سمجھتے تھے اور قیامت کے قائل نہ تھے۔اور بعض یونانیوں کے نقش قدم پر چل کر مادہ اور روحوں کو قدیم اور غیر مخلوق خیال کرتے تھے۔اور بعض دہریوں کی طرح روح کو فانی سمجھتے تھے اور بعض کا فلسفیوں کی طرح یہ مذہب تھا کہ خدائے تعالیٰ رب العالمین اور مدبر بالا رادہ نہیں ہے۔غرض مجذوم کے بدن کی طرح تمام خیالات ان کے فاسد ہو گئے تھے اور خدائے تعالیٰ کی صفات کامله ربوبیت ورحمانیت و رحیمیت اور ملِكِ يَوْمِ الدین ہونے پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے نہ ان صفتوں کو اس کی ذات سے مخصوص سمجھتے تھے اور نہ ان صفتوں کا کامل طور پر خدائے تعالیٰ میں پایا جانا یقین رکھتے تھے بلکہ بہت سی بدگمانیاں اور بے ایمانیاں اور آلودگیاں ان کے اعتقادوں میں بھر گئی تھیں اور توریت کی تعلیم کو انہوں نے نہایت بدشکل چیز کی طرح بنا کر شرک اور بدی کی بد بو کو پھیلا نا شروع کر رکھا تھا۔پس وہ لوگ خدائے تعالیٰ کو جسمانی اور جسم قرار دینے میں اور اس کی ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت وغیرہ صفات کے معطل جاننے میں اور ان صفتوں میں دوسری چیزوں کو شریک گرداننے میں اکثر مشرکین کے پیشوا اور سابقین اولین میں سے ہیں۔یہ تو یہودیوں کا حال ہوا مگر افسوس کہ عیسائیوں نے تھوڑے ہی دنوں میں اس سے بدتر اپنا حال بنالیا۔اور مذکورہ بالا صداقتوں میں سے کسی صداقت پر قائم نہ رہے اور جو خدا کی صفات کا ملہ تھی وہ سب ابن مریم پر تھاپ دی اور ان کے مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ جمیع مافی العالم کا رب نہیں ہے بلکہ مسیح اس کی ربوبیت سے باہر ہے بلکہ مسیح آپ ہی رب ہے۔اور جو کچھ عالم میں پیدا ہوا وہ بزعم باطل ان کے بطور قاعدہ کلیہ مخلوق اور حادث نہیں بلکہ ابن مریم عالم کے اندر حدوث پا کر اور صریح مخلوق ہو کر پھر غیر مخلوق اور خدا کے برابر بلکہ آپ ہی خدا ہے۔اور اس کی عجیب ذات میں ایک ایسا جو بہ ہے کہ باوجودحادث ہونے کے قدیم