تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 161
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الفاتحة فرقان مجید میں بکثرت موجود ہیں اور خود کسی تاریخ دان اور واقف حقیقت کو اس سے بے خبری نہیں ہوگی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت تک ہر ایک قوم کی ضلالت اور گمراہی کمال کے درجہ تک پہنچ چکی تھی اور کسی صداقت پر کامل طور پر ان کا قیام نہیں رہا تھا۔چنانچہ اگر اوّل یہودیوں ہی کے حال پر نظر کریں تو ظاہر ہو گا کہ ان کو خدائے تعالیٰ کی ربوبیت تامہ میں بہت سے شک اور شبہات پیدا ہو گئے تھے اور انہوں نے ایک ذات رب العالمین پر کفایت نہ کر کے صدہا ارباب متفرقہ اپنے لئے بنارکھے تھے یعنی مخلوق پرستی اور دیوتا پرستی کا بغایت درجہ ان میں بازار گرم تھا۔جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حال قرآن شریف میں بیان کر کے فرمایا ہے۔اِتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِن دُونِ الله - (التوبة : ۳۱) یعنی یہودیوں نے اپنے مولویوں اور درویشوں کو کہ جو مخلوق اور غیر خدا ہیں اپنے رب اور قاضی الحاجات ٹھہرا ر کھے ہیں۔اور نیز اکثروں کا یہودیوں میں سے بعض نیچریوں کی طرح یہ اعتقاد ہو گیا تھا کہ انتظام دنیا کا قوانین منضبطہ متعینہ پر چل رہا ہے۔اور اس قانون میں مختارانہ تصرف کرنے سے خدائے تعالیٰ قاصر اور عاجز ہے۔گویا اس کے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے ہیں نہ اس قاعدہ کے برخلاف کچھ ایجاد کر سکتا ہے اور نہ فنا کر سکتا ہے بلکہ جب سے کہ اس نے اس عالم کا ایک خاص طور پر شیرازہ باندھ کر اس کی پیدائش سے فراغت پالی ہے تب سے یہ گل اپنے ہی پرزوں کی صلاحیت کی وجہ سے خود بخود چل رہی ہے اور رب العالمین کسی قسم کا تصرف اور دخل اس گل کے چلنے میں نہیں رکھتا۔اور نہ اس کو اختیار ہے کہ اپنی مرضی کے موافق اور اپنی خوشنوری ناخوشنودی کے رو سے اپنی ربوبیت کو بہ تفاوت مراتب ظاہر کرے یا اپنے ارادۂ خاص سے کسی طور کا تغییر اور تبدل کرے بلکہ یہودی لوگ خدائے تعالیٰ کو جسمانی اور مجسم قرار دے کر عالم جسمانی کی طرح اور اس کا ایک جز سمجھتے ہیں۔اور ان کی نظر ناقص میں یہ سمایا ہوا ہے کہ بہت سی باتیں کہ جو مخلوق پر جائز ہیں وہ خدا پر بھی جائز ہیں اور اس کو مِن كُلِ الوُجُوہِ منز ہ خیال نہیں کرتے۔اور ان کی توریت میں جو محرف اور مبدل ہے خدائے تعالیٰ کی نسبت کئی طور کی بے ادبیاں پائی جاتی ہیں۔چنانچہ پیدائش کے ۳۲ باب میں لکھا ہے کہ خدائے تعالیٰ یعقوب سے تمام رات صبح یک کشتی لڑا گیا۔اور اس پر غالب نہ ہوا اسی طرح برخلاف اس اصول کے کہ خدائے تعالیٰ ہر یک مافی العالمہ کا رب ہے۔بعض مردوں کو انہوں نے خدا کے بیٹے قرار دے رکھا ہے اور کسی جگہ عورتوں کو خدا کی بیٹیاں لکھا گیا ہے اور کسی جگہ پیل میں یہ بھی فرما دیا ہے کہ تم سب خدا ہی ہو۔اور بیچ تو یہ ہے کہ عیسائیوں نے بھی انہیں تعلیموں سے مخلوق پرستی کا سبق سیکھا ہے کیونکہ جب عیسائیوں نے