تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 142 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 142

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۲ سورة الفاتحة لِلْاِسْتِسْقَاءِ فَسُبْحَانَ اللهِ الَّذِي أَنْعَمَ | نہیں تھا، جو ہمیں اس کا مستحق بنا دیتا۔بلکہ اس نے عَلَيْنَا بِرَحمَانِيَّتِهِ وَمَا كَانَ لَنَا مِنْ عَمَلِ اپنی نعمتیں ہماری پیدائش سے بھی پہلے پیدا کر رکھی نَّسْتَحِقُ بِهِ بَلْ خَلَقَ نَعْمَالَهُ قَبْلَ أَنْ نُخْلَقَ ہیں۔پس خوب غور کرو کیا تمہیں اس شان کا کوئی فَانْظُرْ هَلْ تَرَى مِثْلَهُ فِي الْمُنْعِمِينَ۔فَحَاصِلُ فیاض اور منعم کہیں نظر آتا ہے۔حاصل کلام یہ کہ الكَلَامِ أَنَّ الرَّحْمَانِيَةَ رَحْمَةٌ عَامَةٌ لِنَوْعِ الْإِنْسَانِ وَالْحَيَوَانِ وَلِكُلِ ذِى رُوحِ وَكُلِّ رحمانیت بنی نوع انسان اور حیوان کے لئے اور ہر جاندار اور ہر پیدا شدہ جان کے لئے ایک عام رحمت نفيس منفُوسَةٍ مِنْ غَيْرِ إِرَادَةِ أَجْرٍ عَمَلٍ ومِنْ غَيْرِ لِحاظِ اسْتِحْقَاقِ عَبْدٍ بِصَلَاحِه ہے جو کسی عمل پر اجر دینے کے ارادہ کے بغیر نیز کسی شخص کے تقویٰ اور نیکی پر بطور حق کے نہیں۔وَتَوَرعِه في الدني وَالْقِسْمُ الثَّالِثُ مِنَ الصَّفَاتِ فیضانى صفات میں سے تیسری قسم وہ صفت ہے الْقَيْضَانِيَّةِ صِفَةٌ تُسَمِيْهَا رَبُّنَا الرَّحِيمَ وَلا جس کا نام ہمارے پروردگار نے الرحیم رکھا ہے۔اور بُدَّ مِن أَن نُسَمّى فَيْضَاءَهَا فَيْضانًا خَاضًا ضروری ہے کہ ہم اس فیضان کو فیضانِ خاص کے نام وَرَحِيْمِيَّةً مِنَ اللهِ الْكَرِيمِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ سے پکاریں اور یہ رحیمیت خدائے کریم کی طرف سے الصَّالِحَاتِ وَ يُشَمِّرُونَ وَلَا يَقْصُرُونَ وَ ان لوگوں کے لئے ہے جو نیک کام کرتے ہیں۔ہر يَذْكُرُونَ وَلَا يَغْفُلُونَ وَ يُبْصِرُونَ وَلَا وقت نیک کاموں کے لئے تیار رہتے ہیں اور کوئی يَتَعَامَونَ وَيَسْتَعِدُّوْنَ لِيَوْمِ الرَّحِيْلِ کوتا ہی نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے ہیں کبھی وَيَتَّقُونَ سُخَطَ الرَّبِ الْجَلِيلِ وَيَبِيتُونَ غافل نہیں ہوتے۔آنکھوں سے کام لیتے ہیں، لِرَيْهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا وَيُصْبِحُونَ صَائِمِينَ۔اندھے نہیں بنتے۔کوچ کے دن کے لئے تیار رہتے ہیں وَلَا يَنْسَوْنَ مَوْتَهُمْ وَرُجُوْعَهُمْ إِلَى مَوْلَهُمُ اور رب جلیل کی ناراضگی سے بچتے ہیں۔اپنے ربّ الْحَقِّ بَلْ يَعْتَبِرُونَ يتغى يُسْمَعُ يَرْتَاعُونَ کے لئے سجدہ اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔دن کو لالفٍ يُفْقَدُ وَيَذْكُرُونَ مَنَايَاهُمْ مِنْ مَوْتِ روزہ رکھتے ہیں۔اپنی موت اور اپنے مالک حقیقی کی الْأَحْبَابِ وَ يَهُولُهُمْ هَيْلُ التَّرَابِ عَلَى طرف واپس لوٹنے کو نہیں بھولتے۔کسی کی موت کی خبر الْأَتْرَابِ فَيَلْتَاعُونَ وَيَتَنَبَّهُونَ وَ يُرِيْهِم سُن کر عبرت حاصل کرتے ہیں۔کسی دوست کے گم ہو ہو