تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 140
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴ سورة الفاتحة الأَدويَةِ التَّافِعَةِ وَالْأَلْبَانِ السَّائِغَةِ | نفع مند دوائیں ، خوشگوار دودھ اور مصفا شہد، یہ وَالْعَسَلِ الْمُصَفى فَكُلُّهَا مِن رَّحْمَانِيَّتِهِ سب خدائے عزو جل کی رحمانیت سے ہیں نہ کسی عَزَّوَجَلَّ لَا مِنْ عَمَلِ الْعَامِلِينَ وَ إِلى عامل کے عمل کی وجہ سے۔اس فیضان کی طرف اللہ هذَا الْقَيْضَانِ أَشَارَ اللهُ تَعَالَى فِي قَوْلِهِ تعالی نے اپنی ان آیات میں اشارہ فرمایا ہے۔وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ - الرَّحْمٰنُ - عَلَمَ 15/199 661 وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ وَفِي قَوْلِهِ تعالى: " الرَّحْمٰنُ - عَلَمَ الْقُرْآنَ وَفِي قَوْلِهِ تَعَالَى " مَنْ يَكُوكُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الْقُرْآنَ مَنْ يَكُوكُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمَنِ - الرَّحْمَنِ" وَفِي قَوْلِهِ تَعَالَى "مَا يُمْسِكُهُنَّ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمٰنُ۔یہ سب (آیات ) متقیوں إلا الرَّحْمنُ تَذْكِرَةً لِلْمُتَّقِينَ۔کے لئے بطور یاد دہانی کے ہیں۔وَلَوْ لَمْ يَكُن هَذَا الْفَيْضَانُ لَمَا كَانَ اگر یہ فیضان نہ ہوتا تو نہ کوئی پرندہ ہوا میں اُڑ سکتا نہ کوئی لِطَيْرٍ أَنْ يَطِيرَ فِي الْهَوَاءِ وَلَا لِحُوتٍ أَنْ مچھلی پانی میں سانس لے سکتی۔اور ہر عیال دار کو اس کے مال يتَنَفَّسَ فِي الْمَاءِ وَ لَأَبَادَ كُلّ مُعِیلٍ کی قلت اور اولاد کی کثرت اور ہر تنگ دست کو اس کی روزی ضَفَفُهُ وَكُلَّ ذِي قَشَفٍ شَطَفُهُ وَمَا بَغِی کی تنگی ہلاک کر دیتی۔اور اس کے ازالہ کی کوئی صورت باقی نہ سبيل لإماطتِهِ كَمَا لا يخفى عَلَى رہ جاتی۔جیسا کہ واقف حال (لوگوں) پر ظاہر ہے۔الْمُسْتَطلعين۔أَلا ترى كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْأَرْضَ بَعْدَ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ زمین کے مرجانے کے مَوْتِهَا وَيُكَوِرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِرُ بعد اس کو کس طرح زندہ کرتا ہے اور رات کو دن پر اوڑھا النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دیتا ہے اور دن کو رات پر اوڑھا دیتا ہے اور اس نے سورج كُلٌّ تَجْرِى لِأَجَلٍ مُّسَمًّى إِنَّ في ذلك اور چاند کو خدمت پر لگا رکھا ہے (چنانچہ ) ہر ایک (ستارہ) لآيَاتِ رَحْمَانِيَّةِ لِلْمُتَدَبِرِينَ وَ جَعَلَ ایک معین میعاد تک اپنے مقررہ راستہ پر چلا جارہا لَكُمُ اللَّيْلَ لِتَسْكُنُوا فِيْهِ وَ النَّهَارَ ہے۔اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی ۱۔(الاعراف:۱۵۷) ترجمہ۔اور میری رحمت ہر ایک چیز کو حاوی ہے۔۔(الرحمن: ۳،۲) ترجمہ۔(وہ) رحمن (خدا) ہی ہے جس نے قرآن سکھایا۔۔(الانبیاء:۴۳) ترجمہ۔رات یا دن کے وقت رحمن ( خدا ) کی گرفت سے تم کو کون بچا سکتا ہے۔۴۔(الملک: ۲۰) ترجمہ۔رحمن (خدا) ہی ان کو روکتا ہے۔