تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 110

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام +11 سورة الفاتحة ہیں۔یہی عقیدہ نوع انسان کی بد قسمتی سے آریہ صاحبان نے بھی اختیار کر رکھا ہے یعنی وہ بھی یہی اعتقا در کھتے ہیں کہ خدا کی وحی اور الہام کا سلسلہ آریہ ورت کی چار دیواری سے بھی باہر نہیں گیا۔ہمیشہ اسی ملک سے چار رشی منتخب کئے جاتے ہیں اور ہمیشہ وید ہی بار بار نازل ہوتا ہے اور ہمیشہ ویدک سنسکرت ہی اس الہام کے لئے خاص کی گئی ہے۔غرض یہ دونوں قو میں خدا کو رب العالمین نہیں سمجھتیں ورنہ کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ جس حالت میں خدا رب العالمین کہلاتا ہے نہ صرف رب اسرائیلیاں یا صرف رب آریاں تو وہ ایک خاص قوم سے کیوں ایسا دائمی تعلق پیدا کرتا ہے جس میں صریح طور پر طرف داری اور پکش پات پائی جاتی ہے۔پس ان عقائد کے رڈ کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کو اسی آیت سے شروع کیا کہ الْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ اور جابجا اُس نے قرآن شریف میں صاف صاف بتلا دیا ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ کسی خاص قوم یا خاص ملک میں خدا کے نبی آتے رہتے ہیں بلکہ خدا نے کسی قوم اور کسی ملک کو فراموش نہیں کیا۔اور قرآن شریف میں طرح طرح کی مثالوں میں بتلایا گیا ہے کہ جیسا کہ خدا ہر ایک ملک کے باشندوں کے لئے اُن کے مناسب حال اُن کی جسمانی تربیت کرتا آیا ہے ایسا ہی اس نے ہر ایک ملک اور ہر ایک قوم کو روحانی تربیت سے بھی فیضیاب کیا ہے۔جیسا کہ وہ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے۔وَ اِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ ( فاطر :۲۵) که کوئی ایسی قوم نہیں جس میں کوئی نبی یا رسول نہیں بھیجا گیا۔مو یہ بات بغیر کسی بحث کے قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ سچا اور کامل خدا جس پر ایمان لانا ہر ایک بندہ کا فرض ہے وہ رب العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں اور نہ کسی خاص زمانہ تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا رب ہے اور تمام زمانوں کا رب ہے اور تمام مکانوں کا رب ہے اور تمام ملکوں کا وہی رب ہے اور تمام فیضوں کا وہی سرچشمہ ہے اور ہر ایک جسمانی اور روحانی طاقت اسی سے ہے اور اسی سے تمام موجودات پرورش پاتی ہیں اور ہر ایک وجود کا وہی سہارا ہے۔خدا کا فیض عام ہے جو تمام قوموں اور تمام ملکوں اور تمام زمانوں پر محیط ہو رہا ہے۔یہ اس لئے ہوا کہ تا کسی قوم کو شکایت کرنے کا موقع نہ ملے اور یہ نہ کہیں کہ خدا نے فلاں فلاں قوم پر احسان کیا مگر ہم پر نہ کیا یا فلاں قوم کو اس کی طرف سے کتاب ملی تا وہ اس سے ہدایت پاویں مگر ہم کو نہ ملی یا فلاں زمانہ میں وہ اپنی وحی اور الہام اور معجزات کے ساتھ ظاہر ہوا مگر ہمارے زمانہ میں مخفی رہا۔پس اُس نے عام فیض دکھلا کر ان تمام اعتراضات کو دفع کر دیا اور ظاہر ہوامگر زمانہ دکھلا کر