تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 109
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+9 سورة الفاتحة اعتقادات کی پڑتال کی جاوے تو صاف طور پر معلوم ہو جاوے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رب العالمین ہونے کے قائل نہیں ہیں۔یہ خوبی جو اعلیٰ درجہ کی خوبی ہے اور جس کا مشاہدہ ہر آن ہو رہا ہے صرف اسلام ہی بتاتا ہے اور اس طرح پر اسی ایک لفظ کے ساتھ ان تمام غلط اور بے ہودہ اعتقادات کی بیخ کنی کرتا ہے جو اس صفت کے خلاف دوسرے مذاہب والوں نے خود بنالئے ہیں۔(الحکم نمبر ۱۷ جلد ۷ مؤرخہ ۱۰ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۲) خدا نے قرآن شریف کو پہلے اسی آیت سے شروع کیا ہے جو سورۃ فاتحہ میں ہے کہ الْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمينَ یعنی تمام کامل اور پاک صفات خدا سے خاص ہیں جو تمام عالموں کا رب ہے۔عالم کے لفظ میں تمام مختلف قو میں اور مختلف زمانے اور مختلف ملک داخل ہیں۔اور اس آیت سے جو قرآن شریف شروع کیا گیا یہ در حقیقت اُن قوموں کارڈ ہے جو خدا تعالیٰ کی عام ربوبیت اور فیض کو اپنی ہی قوم تک محدود رکھتے ہیں اور دوسری قوموں کو ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کے بندے ہی نہیں۔اور گو یا خدا نے اُن کو پیدا کر کے پھر رڈی کی طرح پھینک دیا ہے۔یا اُن کو بھول گیا ہے اور یا ( نعوذ باللہ ) وہ اس کے پیدا کردہ ہی نہیں۔جیسا کہ مثلاً یہودیوں اور عیسائیوں کا اب تک یہی خیال ہے کہ جس قدر خدا کے نبی اور رسول آئے ہیں وہ صرف یہود کے خاندان سے آئے ہیں اور خدا دوسری قوموں سے کچھ ایسا ناراض رہا ہے کہ اُن کو گمراہی اور غفلت میں دیکھ کر پھر بھی اُن کی کچھ پروا نہیں کی۔جیسا کہ انجیل میں بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں صرف اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے آیا ہوں۔اس جگہ ہم ایک فرض محال کے طور پر کہتے ہیں کہ خدائی کا دعوی کر کے پھر ایسا تنگ خیالی کا کلمہ بڑے تعجب کی بات ہے کیا مسیح صرف اسرائیلیوں کا خدا تھا اور دوسری قوموں کا خدا نہ تھا جو ایسا کلمہ اُس کے منہ سے نکلا کہ مجھے دوسری قوموں کی اصلاح اور ہدایت سے کچھ غرض نہیں۔غرض یہودیوں اور عیسائیوں کا یہی مذہب ہے کہ تمام نبی اور رسول انہیں کے خاندان سے آتے رہے ہیں اور انہیں کے خاندان میں خدا کی کتابیں اترتی رہی ہیں اور پھر بموجب عقیدہ عیسائیوں کے وہ سلسلہ الہام اور وحی کا حضرت عیسی علیہ السلام پر ختم ہو گیا اور خدا کے الہام پر مہر لگ گئی۔انہیں خیالات کے پابند آریہ صاحبان بھی پائے جاتے ہیں یعنی جیسے یہود اور عیسائی نبوت اور الہام کو اسرائیلی خاندان تک ہی محمد و در کھتے ہیں اور دوسری تمام قوموں کو الہام پانے کے فخر سے جواب دے رہے