تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 93
گے۔بلکہ انہیں یہاں تک دھمکی دی گئی کہ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَيَمَسَّنَّكُمْ۠ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِيْمٌ ( یٰس :۱۹)اگر تم نے اپنی تعلیم کو تر ک نہ کیا تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔اور تمہیں درد ناک عذاب پہنچائیں گے۔مگر ان تمام دھمکیوں کے باوجود بلکہ ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا نے کے باوجود جب نتیجہ نکلا تو یہی دکھائی دیا کہ کفر زمین پر اوندھے منہ گِرا ہوا ہے اور صداقت اپنی کامیابی پر مُسکرا رہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کی مخالفت خدا تعالیٰ کی اُن مخفی تدابیر میں سے ایک بڑی اہم تدبیر ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے پیغام کو وسعت دیتا اور اس کے حلقۂ اثر کو وسیع کرتا ہے۔جب مخالفت کا طوفان اُمڈ آتا ہے تو لوگوں میں ایک تہلکہ مچ جاتا ہے اور سعید طبع لوگ غور کرنے لگ جاتے ہیں کہ آخر یہ شخص کیا کہتا ہے اور اس کی کیوں مخالفت کی جاتی ہے۔اور جب وہ تحقیق کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن کے سینوں کو کھول دیتا ہے اور وہ بھی صداقت کا شکار ہو جاتے ہیں۔پس مخالفت انبیاء کی آواز لوگوں کے کانوں تک پہنچانے کا ایک زبردست ذریعہ ہے جس سے جھوٹے مدعیانِ ماموریت قطعی طور پر محروم ہوتے ہیں۔یُوں تو وہ بھی عجیب و غریب دعوے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں مگر لوگ اُن کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے۔بلکہ وہ اُن کے دعووں کو ایک مجنونانہ بَڑ سے زیادہ کوئی وقعت نہیں دیتے۔وہ بسا اوقات خود بھی چاہتے ہیں کہ لوگ اُن کی مخالفت کریں تاکہ ہر کہ و مہ کی زبان پر اُن کا نام ہو اور لوگوں میں اُن کا چرچا ہو۔مگر کوئی اُن کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔اور وہ گوشۂ گمنامی میں کس مپر سی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔اور کسمپرسی کی حالت میں ہی گمنامی کی موت مر جاتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے جب کوئی مامور مبعوث ہو تا ہے تو بڑے کیا اور چھوٹے کیا اور عالم کیا اور جاہل کیا اور مرد کیا اور عورتیں کیا اور طاقتور کیا اور کمزور کیا سب کے سب مخالفت کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اور ہر شخص جو اس پر تیر چلاتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ اُس نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے مگر یہی مخالفت ایک دن سعید الفطرت انسانوں کو جھنجھوڑ کر انہیں کشاں کشاں اللہ تعالیٰ کے دروازہ کی طر ف لے آتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو مکّہ والوں کی شدید مخالفت ہی تھی جس نے حبشہ میںاسلام کا نام پہنچایا۔اور پھر مکّہ والوں کی شدید مخالفت ہی تھی جس نے مدینہ منّورہ میں اسلام کا نام پہنچایا۔پھر یہی مخالفت تھی جس کے نتیجہ میں خود مکّہ کے بڑے بڑے معاندین کے اپنے بیٹے اور بھائی اور رشتہ دار اسلام کی آغوش میں آگئے اور محمدر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جانیں قربان کرنے لگ گئے۔باوجود اس کے کہ مکّہ والوں نے انہیں ہر قسم کی اذّیتوں کا تختۂ مشق بنایا انہیں پتھروں پر گھسیٹا گیا۔انہیں تپتی ریت پر لٹایا گیا اُن کی عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار مار کر انہیں مارا گیا۔اُن کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پائوں میں بیڑیاں ڈالی گئیں۔انہیں اپنے وطن سے بے وطن کیا گیا۔اُن کی ٹانگوں کو