تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 92

ہے کہ خدا تعالیٰ کا بندے کو مخاطب کرنا خواہ وہ بالواسطہ ہو یا بلاواسطہ ایک عظیم الشان انعام ہے کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے کلام کو سُنتا اور پھرا س کا جواب نہیں دیتا۔اور اس پر عمل کرنےکے لئے اس کے دل میں کوئی ولولہ پیدا نہیں ہوتا۔حالانکہ بسم اللہ کی ب سے لے کر و النَّاس کے س تک قرآن کریم کا ایک ایک کلمہ۔اس کا ایک ایک لفظ اور اس کا ایک ایک حرف خدا تعالیٰ کی طرف سے بندےکے لئے سلام کا پیغام لے کر آیا ہے اور اپنے اندر اتنی طاقت رکھتا ہے کہ اگر اب بھی مسلمان خدا تعالیٰ کے پیغام کے جواب کے لئے تیار ہو جائیں اور اس کی اطاعت کے لئے اپنے دلوں کے دروازے کھول دیں تو یقیناً اُن کی دنیا بدل سکتی ہے۔وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ١ؕ وَ كَفٰى اور ہم نے اسی طرح مجرموں میں سے سب نبیوں کے دشمن بنائے ہیں اور تیرا رب ہدایت دینے اور بِرَبِّكَ هَادِيًا وَّ نَصِيْرًا۰۰۳۲ مدد کرنے کے لحاظ سے (بالکل )کافی ہے۔تفسیر۔اس آیت میں بتا یا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کو ئی عجیب بات نہیں۔آج تک دنیا میں کوئی بھی نبی ایسا نہیں آیا جس کی مخالفت نہ کی گئی ہو اور جس کو تباہ کرنےکے لئے دشمنانِ انبیاء نے ایڑی چوٹی کا زور نہ لگا یا ہو۔مگر تاریخ شاہد ہے کہ ہر قسم کی مخالفت کے باوجود آخر یہی نتیجہ نکلا کہ نبی اور اس کے ماننے والے جیتے اور مخالفت کرنے والے خواہ وہ کتنی بڑی طاقتوں کے مالک تھے تباہ اور بر باد ہوئے۔یہ ایک ایسا کلیہ ہے جس کے خلاف ہمیں دنیا میں کوئی نظیر نظر نہیں آتی۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ آدم ؑاپنے دشمنوں پر غالب نہ آیا ہو یا نوح ؑ نے اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں کامیابی حاصل نہ کی ہو۔یا ابراہیم ؑ اپنے مشن میں کامیاب نہ ہوا ہو۔یا موسیٰ ؑنے فرعون پر غلبہ نہ پایا ہو۔یا عیسیٰ ؑ نے یہود پر فتح حاصل نہ کی ہو یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید مخالفت کے باوجود فتح و ظفر نے آپ کے قدموں کو نہ چوما ہو۔ان تمام انبیاء کے زمانہ میں شیطان نے اپنے پورے سازو سامان کے ساتھ خدائی جماعتوں پر حملہ کیا اور ہر قسم کے ذلیل ہتھیاروں سے اُس نے صداقت کو مٹانا چاہا مگر ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ خدا تعالیٰ کا کوئی نبی ہارا ہو اور شیطان جیتا ہو۔بیشک نبیوں کو کہا گیا کہلَنُخْرِ جَنَّکُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا ( ابراہیم :۱۴) ہم یقیناً تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے یا تم ہمارے مذہب کی طرف لوٹ آئو